لاہور، مئی 10(اے پی پی): نگران وزیر بلدیات ابراہیم مراد کی زیر صدارت پنجاب کے 11 اضلاع کے ماسٹر پلان کی تیاری کے سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہوا ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ام لیلیٰ نقوی نے اجلاس کو بریفننگ دی۔ نگراں وزیر بلدیات ابراہیم مراد نے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت دی کہ پنجاب کے 11 اضلاع کے نئے ماسٹر پلان میں گرین ایریاز کی واضح طور پر حد بندی کی جائے- انھوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے گرین ایریاز میں نئی رہائشی سکیموں کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ ابراہیم مراد نے ہدایت دی کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لئے زرعی رقبے کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ شہروں میں ہونے والی کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معیشت کے استحکام کی ضمانت ہیں۔ شہریوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لئے چھوٹے شہروں میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے لئے اکنامک کو ریڈورز بنائے جائیں۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ غیر قانونی رہائشی سکیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ محکمہ بلدیات راولپنڈی ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، اوکاڑہ اور ساہیوال کے ماسٹر پلان تیار کر رہا ہے۔ اور اس کے علاؤہ خانیوال ، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان کے ماسٹر پلان بھی تیار کئے جا رہے ہیں ۔ ابراھیم مراد نے کہا کہ مظفر گڑھ ، بہاولپور اور رحیم یار خان کے ماسٹر پلان بھی بنائے جا رہے ہیں ۔ اجلاس کو بریفننگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 11 اضلاع کے لینڈ یوز کلاسیفیکیشن میپ بنا کر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کر دئیے گئے ہیں۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی منظوری اور نوٹیفیکیشن کے بعد ان اضلاع کے لینڈ یوز پلان بنائے جائیں گے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پنجاب کے 11 اضلاع کے لینڈ یوز پلان آئندہ 20 سال کی ضروریات پوری کر سکیں گے۔











