اسلام آباد،20مئی(اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان نے خاتون کی تصویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے جنریٹ کروا کر اپنے ٹویٹر ہینڈل پر شیئر کی اور سیکورٹی اہلکاروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا، درحقیقت ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا، یہ شخص جھوٹ بولتا ہے، انسانی حقوق اگر پامال ہوئے تو وہ عمران خان کے ہاتھوں ہوئے، عمران خان نے جتنا ملک کو رسوا کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، عمران خان منصوبہ بندی سے پاکستان کی ریاست پر حملہ آور ہوا، 9 مئی کے سانحہ پر پوری قوم کے دل افسردہ ہیں، ایسا کبھی دشمن نے نہیں کیا، مذمتی ڈراموں سے عمران خان کی جان نہیں چھوٹے گی، عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں آنا ہوگا۔
ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان ہر روز کوئی نا کوئی تماشہ کرتا ہے اور دھمکی دیتا ہے، پہلی دفعہ ان کو پتہ لگا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں آنا کیا ہوتا ہے۔ عمران خان نے 14ماہ سے زمان پارک میں تماشا لگا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے فارن فنڈنگ، توشہ خانہ کی چوری اور اپنی بیٹی ٹیریان کے کیسز سے بچنے کیلئے منصوبہ بندی کی تھی کہ کس کس جگہ پر حملہ آور ہونگے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا کہ 9مئی کو کیا ہوا، سانحہ 9 مئی پر پوری قوم آبدیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 75سالہ تاریخ میں دشمن بھی وہ کام نہ کر سکے جو عمران خان نے کئے، پی ٹی آئی کے شر پسندوں اور دہشتگردوں نے حساس تنصیبات، ہسپتال، سکولز، مساجد ، ایمبولینسز تک جلادیں، کورکمانڈر کا گھر جلادیا اور شہداءکی یادگاروں کی بے حرمتی کی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وردی کی تضحیک کی گئی اور وردی میں ملبوس شہداءکی یادگاروں کو جلایا گیا جس پر ہمسایہ ملک میں شادیانے بجائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے قومی سانحہ کی عمران خان نے منصوبہ بندی کی تھی جو اس کا سر غنہ اور ماسٹر مائنڈ ہے، اس کی جماعت کے قائدین کی آڈیوز موجود ہیں جن میں وہ شرپسندوں کو شرپسندی کی ہدایات دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ سانحہ عمران خان کی منصوبہ بندی میں ہوا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ 9 مئی کو سانحہ ہوا اور 19مئی کو مذمت کی گئی جو اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کی گئی کیونکہ عوام نے دہشت گردی پر بھرپور ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نہیں چاہتی کہ سکول، ہسپتال اور مساجد جلائی جائیں اور شہداءکی یادگاروں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ردعمل نے عمران خان کو مجبور کیا جس پر عمران خان نے مذمتی ڈرامہ رچایا۔ مذمت سے جان نہیں چھوٹے کی جو صرف اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے گذشتہ روز اس حوالہ سے اپنے بیان میں حساس تنصیبات اور شہداءکی یادگاروں پر حملوں کی مذمت نہیں کی، اس کو قانون کے کٹہرے کا پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان سے کرپشن پر جواب مانگا تو 9 مئی کا سانحہ پیش آیا۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران خان کے دہشت گرد زمان پارک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے قومی خزانہ نہیں لوٹا تو تلاشی دے دیں مگر یہ قانون کو جواب دینے کی بجائے دنگے فساد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر جب الزام لگا تو انہوں نے قانون کی تکریم کیلئے عدلیہ کو 40 سال کا حساب دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر زمان پارک میں دہشت گرد موجود نہیں تو دروازہ کھولیں اور تلاشی دیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے زمان پارک میں موجود لوگوں کو ورغلا کر ملک پر حملہ کرایا جس کے بعد ان سے لاتعلقی ظاہر کر کے ان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 19مئی کو ٹویٹ کی جس میں خاتون کی تصویر کے سامنے رینجرز اور پولیس کی تصاویر لگا کر پروپیگنڈا کیا گیا اور سیکورٹی اہلکاروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا جبکہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی اور اس طرح کا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب مجرم ریاست پر حملہ کرتا ہے تو اس کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کیپیٹل ہلز پر حملہ کے مجرم جیلوں میں بند ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ سرکاری، نجی املاک، حساس تنصیبات اور جانوروں پر حملہ کیا گیا، کیا اس سے انسانی حقوق پامال نہیں ہوئے؟ کیا آپ کے دور میں کئے گئے مظالم سے یہ حقوق پامال نہ ہوئے؟ آپ نے سیاسی مخالفوں کے بیوی بچوں کو جیلوں میں ڈالا، کیا حقوق پامال نہ ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر دکھا دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں جبکہ فرانس کے ٹی وی چینل نے ان کا پردہ چاک کیا اور کہا کہ یہ تصاویر مصنوعی ذہانت سے تخلیق کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پولیس پر حملے کروائے اور ان پر پٹرول بم پھینکے گئے، کیا ان کے حقوق پامال نہیں ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان نے ٹویٹ میں کل والی تصاویر ہٹا دیں جو ان کے جھوٹ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے جھوٹ، فراڈ، سازش اور منصوبہ بندی کوعوام سمجھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ آپ مسلح افواج پر حملہ آور ہوئے اور شہداءکے اہلخانہ کے جذبات کو مجروح کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کبھی ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے، احادیت کا حوالہ دیتا ہے اور اسلامی ٹچ دیتا ہے جو اپنی گندی اور جھوٹ پرمبنی سیاست کیلئے حضور ؐکا نام مبارک استعمال کرتا ہے۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے دعویداروں نے ہسپتال، سکول، مساجد، ایمبولینسز، شہداءکی یادگاریں، وردیاں اورجانور تک جلا دیئے اور انہیں شرم نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کے لوگ اپنے ضمیر کے مطابق پارٹی چھوڑ رہے ہیں، یہ سب لوگ عمران خان کے منہ پر تھپڑ مار کر جا رہے ہیں اور عمران خان کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے، جن کے دل میں خدا کا خوف ہے وہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق عمران خان نے پامال کئے جو ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے، عمران خان نے 4 سال ملک پر مسلط ہو کر ملک کو رسوا کیا، اس نے ملک کی خارجہ پالیسی تباہ کی، کئی ممالک پاکستان سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اقتدار میں آتے ہی ملک کی عزت بحال کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پی ٹی وی حملہ پر سزائیں ہو جاتیں تو آج ریڈیو پاکستان نہ جلتا۔ انہوں نے کہاکہ ریڈیو پاکستان نے آپکا کا کیا بگاڑا تھا جو سب کچھ جلا دیا گیا، 25 کروڑ روپے کا نقصان کیا، ریڈیو پاکستان پشاور کا پورا انفراسٹرکچر جلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو، ہسپتال ، ریڈیو اور حساس تنصیبات سمیت شہداءکی یادگاروں اور دیگر املاک پر حملہ کرنے کی آڈیوز موجود ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں ملیں گی اور ایسی مثال قائم ہوگی کہ آئندہ کسی کی جرات نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو دہشت گرد پچہتر سال میں نہیں کر سکا عمران خان نے 9 مئی کو کر دکھایا، 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بطور حکومتی ترجمان کہہ رہی ہوں کہ حکومت پر کوئی پریشر نہیں، حکومت کا کام ملک کے شہریوں کو تحفظ دینا ہے، انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہونے دیں گے، جو خطوط لکھ رہے ہیں وہ اپنے کرتوت پر بھی غور کریں، کیپیٹل ہلز پر حملہ کرنے والے آج بھی جیلوں میں بند ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں، ہم نے اس وقت بھی ایسے اقدامات کی مذمت کی تھی اور اب بھی کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی شہید افواہیں پھیلاتے ہیں اور افواہوں پر مبنی گھٹیا سیاست کرتے ہیں جو حکومت کی مدت میں توسیع کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔
پی ٹی وی سپورٹس اور پی ٹی وی کے حوالہ سے وزیر اطلاعات نے کہا کہ جنہوں نے پی ٹی وی پر ڈاکہ ڈالا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کے اقدامات سے پی ٹی وی سپورٹس نے تاریخی ریونیو حاصل کیا ہے۔ پی ٹی وی اکیڈمی، ریڈیو اکیڈمی، انفارمیشن سروسز اکیڈمی کو ضم کر کے پاکستان کے تمام لوگوں کے لئے اوپن کیا جا رہا ہے، جون کے مہینے میں میڈیا، صحافیوں، اداکاروں اور فلم سازوں کے لئے ٹریننگ ماڈیول اوپن کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں پی ٹی وی پر ڈاکہ ڈالا گیا، پی ٹی وی سپورٹس کا جنازہ نکالنے کی کوشش کی گئی، موجودہ انتظامیہ اور وزارت اطلاعات و نشریات نے نہ صرف اس پر قابو پایا ہے بلکہ پی ٹی وی سپورٹس نے تاریخی منافع حاصل کیا ہے۔
ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آڈیو لیکس کے حوالے سے انکوائری کمیشن ایکٹ 2017ءکے تحت تین رکنی جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کیا گیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں یہ کمیشن کام کر رہا ہے، اسی طرح بلوچستان اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اس کمیشن کے رکن ہیں، یہ کمیشن آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے گا۔ کمیشن 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔











