قربانی کی مد میں عازمین حج سے وصول کئے گئے 55 ہزار روپے فی کس کے حساب سے عازمین کے اکائونٹ میں واپس بھجوا دیئے گئے ہیں؛ سینیٹر طلحہ محمود

36

اسلام آباد،20مئی(اے پی پی):وفاقی وزیر مذہی امور سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ قربانی کی مد میں عازمین حج سے وصول کئے گئے 55 ہزار روپے فی کس کے حساب سے عازمین کے اکائونٹ میں واپس بھجوا دیئے گئے ہیں، اس سال پاکستان سے پونے دو لاکھ عازمین فریضہ حج ادا کریں گے، عازمین حج کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں،  وزیراعظم شہباز شریف ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی  نے روڈ ٹو مکہ کے حوالہ سے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکرگزار ہیں،حج آپریشن کی پہلی پرواز  12 گھنٹے کے بعد  کراچی سے صبح 4 بج کر 50 منٹ پر  اسلام آباد سے پہلی پرواز اتوار کی رات 9  بج کر 20 منٹ پر روانہ ہوگی، اسلام آباد سے پروازیں مدینہ منورہ جائیں گی، دوسری پرواز کراچی سے اس کے بعد لاہور سے جائے گی۔

 ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ امسال  پونے دو لاکھ عازمین حج  فریضہ حج ادا کریں گے، چار سال بعد یہ بڑا حج منعقد ہونے جا رہا ہے۔ گزشتہ سال  پاکستان سے  34 ہزار عازمین سرکاری سکیم کے تحت اور پرائیویٹ آپریٹرز کے ذریعے 45 ہزار عازمین نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ امسال پوری دنیا سے تقریبا 30ً لاکھ سے  زائد عازمین حج اس سال فریضہ حج ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے جب لوگ جاتے  ہیں توہوائی اڈے پر بہت سا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ اب انتظار نہیں کرنا پڑے گا لیکن اس میں ہم بہتری لا رہے ہیں تاکہ عازمین کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانا پڑے، 26 ہزار حجاج جو اسلام آباد سے سفر کریں گے ان کی امیگریشن اور دیگر  ضروری کارروائی اسلام آباد ایئرپورٹ پر مکمل کی جائے گی جس سے انہیں انتظار کی زحمت نہیں ہوگی، ملک کے دیگر  ہوائی اڈوں پر ابھی یہ سہولت  موجود نہیں۔ امیگریشن اسلام آباد ایئرپورٹ پر مکمل کرنے کیلئے سعودی عرب کا عملہ یہاں پہنچ چکا ہے۔ روڈ ٹو مکہ کے حوالے سے بھی بہتری لائی جارہی ہے، پاکستان میں  سعودی سفیر  نواف سعید  المالکی کے ہمراہ  اسلام آباد سے پہلی حج  پرواز کو الوداع کریں گے۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ روڈ ٹو مکہ کے حوالے سے جو بھی بہتری لائی جاسکتی ہے وہ بھی آئندہ سالوں میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔ گزشتہ سال   سعودی نائب وزیر داخلہ  یہاں تشریف لائے تھے اور ان سے باضابطہ معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ اگلے سال کوشش کریں گے کہ یہ سہولت لاہور اور کراچی سے بھی شروع کریں۔ سعودی حکومت نے اس وقت صرف اسلام آباد سے روانگی کیلئے یہ سروس شروع کی ہے۔ آئندہ برسوں میں کوشش کریں گے کہ دیگر ہوائی اڈوں کو بھی بتدریج شامل کریں گے۔

 وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ اس سال ایک تبدیلی آئی ہے گزشتہ دنوں میڈیا میں اعلان کیا تھا ہم نے کوشش کی ہے کہ عازمین حج کے سفری اخراجات کو کم کیا جائے اور اس میں قربانی کے جانور کو اس پیکج میں شامل  کیا گیا لیکن عوام کی طرف سے ایک دبائو آیا بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم نے  قربانی کا انتظام پہلے  سے کر رکھا ہے لہذا قربانی کی جگہ ہمیں پیسے  ادا کردیں، جس کیلئے وہاں کی حکومت نے 710 ریال یعنی 53   ہزار روپے سے زائد مقرر کئے تھے، ہم نے  عوامی مطالبہ پر  55 ہزار روپے فی کس ان کے اکائونٹ میں بھجوا دیئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ لوگ سرکاری ریٹ 710 ریال سے کم قیمت  پر قربانی کرلیں۔ اس لئے انہیں یہ رقم ادا کردی گئی ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ روڈ ٹو مکہ کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا اہم کردار ہے جس پر میں ان کا شکرگزار ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سعودی حکومت نے ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے،  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے شکرگزار ہیں جو پاکستان کے حوالے سے خصوصی ساتھ دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ رشتہ اس لئے بھی مضبوط ہے کہ پاکستانی عوام سعودی عرب سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں اور حرمین الشریفین حرم اور مسجد نبویۖ  سعودی عرب میں ہیں اور ہم رسول اکرمؐ کے پیروکار ہیں اور ان مقامات سے اس طرح انس رکھتے ہیں جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے حج اخراجات بڑھے  ہیں لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں کم لاگت پر حج کرا رہے ہیں جو اس وقت چار ہزار ڈالر سے بھی کم پر ہے اور کوشش ہے کہ اسے مزید کم سطح پر لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ میری گزارشات ہیں کہ ہمارے جتنے بھی حاجی جارہے ہیں وہ پاکستان کی نمائندگی کریں گے، ہر قسم کی  مذہبی و سیاسی منافرت اور مخالفت کو پس پشت ڈال کر امت  واحدہ کا ثبوت دیں اور پاکستان کا نام اور وقار  بلند کریں۔ ہمیں اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایسے مواقعوں پر یکجہتی اور اتفاق کا ثبوت دینا ہوگا، تمام 80  ہزار عازمین حجاج کو موبائل فون پر پیغامات  بھجوائے ہیں تاکہ کسی بھی  مشکل کی صورت میں  ہمارے ساتھ رابطہ کریں، معاونین حجاج سے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے  آپ کو حج  اور حجاج کی خدمت کا موقع فراہم کیا  ہے اس لئے معاونین حجاج اپنا مذہبی اور قومی فریضہ بطور احسن سرانجام دیں۔ جن اداروں سے معاونین لئے گئے ہیں حج پالیسی کے تحت   معاونین کے گریڈ کے لحاظ سے ان کے اداروں سے کچھ معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ ہماری کوشش  ہے کہ پہلے سے زیادہ بہتری لائیں۔عازمین حجاج اپنی عبادات کی طرف توجہ کریں اور باہمی احترام کے ساتھ فریضہ حج ادا کرتے ہوئے ملک اور قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ  عزیزیہ میں 200 سے زائد عمارتیں لی گئی ہیں جن کے 1800، 1900 اور 2100 ریال کے ریٹ آرہے ہیں۔ 2019 میں یہ اوسط 2600 ریال تھی ابھی جو بھی اعدادوشمار ہوئے وہ میڈیا کے سامنے پیش کردیں گے تاہم ابھی یہ عمل جاری ہے۔ کھانے کے حوالے سے ٹینڈر پہلے سے رمضان کے اندر شروع ہوگیا تھا وہ 33 ریال یومیہ ہے۔ بلڈنگز عید کے بعد لی گئی ہیں۔ پوری طاقت لگائی گئی کہ مرکزیہ کے اندر  تمام عمارتیں مل جائیں لیکن پوری عمارتیں نہیں مل سکیں اور 20، 25  فیصد عمارتیں مرکزیہ سے باہر مل رہی ہیں اس کیلئے ہم نے وہاں عازمین کی تعداد دو ہزار کم کردی ہے  اور کہا ہے کہ وہ بعد میں چلے جائیں کیونکہ بعد میں بھی عمارتیں مل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ یہ عمل تاخیر سے شروع ہوا جسے رمضان المبارک کے دوران مکمل ہوجانا چاہئے تھا۔ اس لئے  تھوڑی بہت مشکل پیش آئی ہے، سعودی حکام سے پوچھا  ہے کہ مرکزیہ سے علیحدہ عمارتوں میں ہمیں کیا اضافی سہولت ملے گی جس پر ڈائریکٹر مکہ کی طرف سے بتایا گیا کہ 24 گھنٹے بس سروس ملے گی،  مرکزیہ سے بالکل متصل عمارت ہوگی اور سہولیات اچھی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے  نہیں معلوم کہ سہولیات کس قدر اچھی ہیں وہاں جاکر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا۔

 وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ منیٰ کے حوالے سے ابھی خط لکھ کر آیا ہوں جس میں پرانے منیٰ میں کم اور نئے منیٰ کے اندر زیادہ جگہ دے رہے ہیں اور میں نے ان سے 100 فیصد کا مطالبہ کیا ہے، سعودی حکام نے جو پیشکش کی ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے جس کیلئے ابھی خط لکھا ہے، سفارتخانہ کو بھی آگاہ کردیا  ہے، امید ہے کہ معاملہ جلد حل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات ملی ہیں کہ بھارت سمیت  دوسرے ممالک کو زیادہ گنجائش دی گئی ہے جس پر ہمیں افسوس ہے لیکن  بھارت سے بھی مسلمان ہی فریضہ حج ادا کرنے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ہماری ہمدردی بھی ہوتی ہے لیکن ہمیں گنجائش کم دینے پر ہمارے  تحفظات ہیں، ہمارے حجاج کم وسائل رکھتے ہیں اور پیرانہ سالی  کی وجہ سے   ان کیلئے دور سے آنا خاصا مشکل ہوتا ہے اس پر ہم سعودی حکام سے بات کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں کہ مفت حج کسی کو نہیں کرنے دوں گا، جو  نشاندہی کرے گا اسے انعام بھی دوں گا۔  انہوں نے کہا کہ جو  معاونین جا رہے ہیں وہ 7 گریڈ سے 18 گریڈ تک کے مختلف اداروں کے لوگ ہیں جس میں میڈیکل مشن کو اس لئے عمر کی چھوٹ دی گئی ہے  تاکہ سینئر ڈاکٹرز جا سکیں اور وزارت کے سینئر لوگ ہیں انہیں رعایت بھی رعایت دی  گئی ہے کیونکہ انہوں نے انتظامات دیکھنے ہیں تاہم  معاونین کی عمر 25 سے 45  سال تک رکھی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں  انہوں نے کہا  کہ قربانی کے حوالے سے جو رقم واپس کی گئی  ہے اس کا حجم  تقریبا  چار سے ساڑھے چار ارب روپے بنتا ہے۔