ملتان ، 14جون (اے پی پی ): ایجو کیشنل اینڈ سوشل فورم کے زیر اہتمام اردو زبان کے عظیم شاعر اور نثر نگارابن انشاء کی 95 یوم پیدائش اور ممتاز ماہر تعلیم شمیم احمد ہاشمی کی 92سالگرہ کاکیک کاٹا گیا۔
اس موقع پر پروفیسر عنایت علی قریشی، نوید ہاشمی، میاں وقاص فرید قریشی، قمر ہاشمی نے کہا کہ ابن انشاء نے متعدد سفر نامے بھی تحریر کیے جو کہ بے پنا ہ مقبول ہوئے جن میں چلتے ہو تو چین کو چلیے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، آوارہ گرد کی ڈائری اور دنیا گول ہے قابل ذکر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابن انشاء کی کتب خمار گندم اور اردو کی آخری کتاب ان کے کالموں پر مشتمل ہے جو کہ بے پناہ مقبول ہوئیں وہ غزل گو شاعر بھی تھے ان کی مقبول عام غزل انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہے وہ آج ہم میں نہیں ہیں مگر انہوں نے اپنے قلم سے اردو ادب کے افق پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا تک لوگوں کو ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔
پروفیسر عنایت علی قریشی، میاں وقاص فرید قریشی، قمر ہاشمی نے مزید کہا کہ ماہر تعلیم شمیم احمدہاشمی درویش صفت انسان تھے ۔انہوں نے تعلیم کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سر انجام دیں ہیں وہ گورنمنٹ اقبال سکینڈری سکول شاہ رکن عالم کالونی ملتان کے بانی ادارہ تھے ،نوجوانوں کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں وہ آج بھی ہمارے دلوں میں بستے ہیں انکی تعلیمی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پروفیسر نیاز احمدقریشی مرحوم کی یوم پیدائش کے موقع پر مرحومین ابن انشاء اور ماہر تعلیم شمیم احمد ہاشمی کیلئے دعا مغفرت اور عالم اسلام کی اورپاکستان کی سلامتی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
اس موقع پرحاجی خلیل راں، میاں اویس فرید قریشی، ربنواز وینس، شفیع راں، محمد احمد، میاں اسید بھی تقریب میں شریک تھے۔











