نوشہرہ ورکاں، 15جون(اے پی پی):وسطی پنجاب میں گندم کی فصل کی کٹائی کے بعد اب دھان کی فصل لگائی جا رہی ہے اور حسب روایت خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔
گندم کے رواں سیزن میں کاشتکار کوفی ایکڑ پیداوار 50 من گندم ملی ہے اور ایک ایکڑ سے کم و پیش دو لاکھ روپے آمدن کاشتکار کی خوشحالی کا سبب بنی ہے۔تحصیل بھر میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر گندم کی طرح اب دھان کی بوائی میں کاشتکار عام بیجوں کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ بیج کی کاشت بھی تجرباتی بنیادوں پر کر رہے ہیں۔
عام بیج کی مد میں ساٹھ سے ستر من اور ہائبرڈ بیج کی مد میں 80 سے ایک سو من یا اس سے بھی زائد دھان کی پیداوار متوقع ہے۔
زمیندار و کاشتکار کا خیال ہے کہ ہائبرڈ بیج سے تیار چاول ذائقہ اور خوشبو میں سپر باسمتی سے کم ثابت نہیں ہو گا۔
موسمیاتی تبدیلیوں اور وسطی پنجاب میں شدید گرمی کے دورانیے میں کمی ہونے سے مختلف پھلوں کے باغات بھی لگائے جا رہے جو سالانہ ایک ہی فصل سے ہی ناقابل یقین آمدن کا زریعہ ثابت ہو رہے ہیں جن میں امرود اور آڑو کے باغات کے کامیاب تجربے سے کاشتکار کو خاطر خواہ آمدن بڑھانے کا موقع مل چکا ہے، اور اس کے علاوہ کنوں،فروٹر ،مسمی،مالٹا ،انجیر ،خوبانی ،بادام،سیب ، آلو بخارا ،فالسہ ،انار جاپانی پھل اور لوکاٹ کے پودوں کے علاوہ سورج مکھی اور زعفران بھی لگانے کی راہ ہموار ہو چکی ہے اور باغات لگانے کے علاوہ گھروں میں مختلف پھلوں کے پودے اور دیگر پھولدار پودے لگانے سے صاف ستھرا ماحول اور سبزا بڑھ رہا ہے۔
نواحی گاؤں بدورتہ میں نجی ملکیت کے آڑو کے بارہ ایکڑ رقبے پر پھیلے باغ سے کامیاب اور پودے پر تیار ھونے والا خوش ذائقہ مٹھاس سے بھرا آڑو علاقہ مکینوں کو رواں سیزن میں بھی مقامی سطح سے میسر ہوا اور مالک کو قابل ذکر منافع ملنے کی صورت مزید باغات لگانے کا سلسلہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے زمینداروں اور کاشتکاروں نے بجلی، بیجوں،کھادوں اور زرعی ادویات پر سبسڈی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ بجلی کا مہنگے داموں ملنا اور نہری پانی کا فقدان انکے بہت سارے نفع کو ہضم کرنے کے مترادف ہے۔











