لاہور 7 اگست ( اے پی پی ): وزیر اعظم کے معاون خصوصی مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلم مسیحی اقلیتیں رہتی ہیں آئین نے تمام اقلیت کو ان کا حق دیا ہے،پاکستان میں کوئی غیر مسلم کی کسی مسلمان سے حقوق کم نہیں ہیں کسی گروہ کو حق حاصل نہیں وہ کسی کا حق چھینے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تمام مصائب کی مذہبی کتابوں کی عزت کرنا ہم سب کا فرض ہےمسیحی برادری نے صحت و تعلیم ، فوج کے شعبہ میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا،ایک پلان کے تحت کوشش کی گئی کہ سویڈن میں قرآن نذر آتش کیا گیا انجیل کو جلانے کی کوشش کی گئی جو قابل مذمت ہے،انہوں نے کہا کہ تمام آسمانی مذاہب و انبیا و رسول کی توہین جائز نہیں ہے،پوپ فرانسس اور عالمی قیادت کو شکریہ اداکرتا ہوں قرآن پاک جلانے پر مذمت دلوں کو ٹھنڈک ہے، او آئی سی نے تمام آسمانی مذاہب کتب کو جلانے کےلئے قرارداد منظور کی کہ کسی کتب کو نہ جلایا جائے، انہوں نے کہا کہ مسجد علی جو شہید کی گئی ، جے یو آئی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کا حملہ کی مذمت کرتے ہیں، کوئی مذہب قتل کی اجازت نہیں دیتا قرآن میں واضح لکھا جس نے ایک کو قتل کیا تو پوری انسانیت کو قتل کیا، طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اگست میں یوم پاکستان پر کانفرنسیں منعقد کریں گے، کچھ لوگ پروپیگنڈہ کررہے ہیں آزادی نہیں منائیں گے لیکن ہر چرچ اور مسجد مندر میں پاکستانی پرچم لہرائیں گے،ہمارے لئے ملک و سلامتی اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شانتئ نگر ، جوزف کالونی ، یوحنا آباد ، پشاور چرچ یا خود کش ہو ہم اپنی اقلیتی برادری کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستان کی سلامتی کےلئے اقلیت ایک ہیں قوم و فوج نے دہشت گردی کو ختم کیا،ہمیں اپنے ملک کےلئے سیاسی رواداری کی بات کرنی چاہئے،
انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک کے سفیر نکالنے سے فرق نہیں پڑے گا پاکستان بھارت کینیڈا چین سمیت سب ممالک کو مل کر لائحہ عمل بنانا چاہئیے،روسی صدر نے سینے سے قرآن لگایا اور دنیا کو پیغام دیدیا،جو لوگ مذہبی کتابوں کو جلاتے ہیں ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں،کوئی کتاب ہو یا کوئی نبی توہین کا معاملہ سب کا مسئلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نظام انصاف کی اصلاح چاہئیے جب تک وہ نہیں ہوگا کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے،انصاف رضوانہ کو پہلے ملنا چاہئے تھا جج نے مظلوم کرنے والوں کی ضمانت خارج کردی ہے،بدقسمتی نظام انصاف تنزلی اور چھٹیوں پر گیا ہوا ہے ظلم چوبیس گھنٹے ہے ۔اس موقع پر چیئرمین کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ آتش بشپ سبسٹین فرانسس شاء اور دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا ۔











