نارووال ،08 اگست (اے پی پی): ڈپٹی کمشنرمحمداشرف کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ پرائس مجسٹریٹس کااجلاس،پرائس مجسٹریٹس کی طرف سے ا علیٰ کارکردگی کی بناءپرضلع نارووال کی صوبہ بھرمیں چھٹی پوزیشن۔
اسسٹنٹ کمشنرزشکرگڑھ،ظفروال و نارووال خضرظہورگورائیہ،فاروق اعظم راناظفراللہ خاں اورڈی او انڈسٹریزذیشان کے علاوہ پرائس مجسٹریٹس اورخصوصی طورپرانجمن کریانہ مرچنٹ،بیکریز،نان وسبزی ایسوسی ایشنز کے شاہجہان بٹ، رانامحمدالطاف،حاجی مقبول احمد،محمدشاہد،محمدیونس،محمدنویدنے اجلاس میں شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنرنارووال نے سماجی ایسوسی ایشنزکے نمائندگان سے اشیاءکی قیمتوں کے حوالے سے شہریوں کوزیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی اپیل کی ۔صدرکریانہ مرچنٹ شاہجہان بٹ ودیگرکی طرف سے انتظامیہ کے ساتھ بھرہورتعاون کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ۔
ڈی سی نارووال نے اس موقع پرتاجروں کی طرف سے پیش کردہ مسائل کو حل کرنے کاوعدہ کیا ۔اجلاس میں پرائسزمجسٹریٹس کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائیوں کا فرداًفرداًجائزہ لیاگیا۔
ڈپٹی کمشنرنارووال نے کہاکہ پرائس مجسٹریٹس اپنے مقررہ ٹارگٹ کے حصول کوہرصورت یقینی بنائیں,روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں کوروزانہ مانیٹرکیاجائے۔
ڈپٹی کمشنرنارووال نے افسران کوہدایت کی کہ مجسٹریٹس اپنے اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے قانون شکن دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کریں،انہوں نے کہاکہ حکومت شہریوں کوروزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی کویقینی بنانے کے ہرممکن اقدام اٹھارہی ہے جس کامقصدلوگوں کوزیادہ سے زیادہ ریلیف کوفراہم کرناہے،لہٰذاپرائس مجسٹریٹس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ضلع کی ریونیوحدودمیں مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فروخت کو یقینی بنائیں اور ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کریں کیونکہ ناجائز منافع خور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
ڈی او انڈسٹریزذیشان نیازنے ڈپٹی کمشنرنارووال کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ اگست کے پہلے ہفتے کے دوران پرائس مجسٹریٹس کی طرف سے ضلع بھرمیں ایک ہزار836 انسپیکشنزکی گئیں جن میں179 دکاندارخلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے جنہیں مجموعی5لاکھ55ہزار جرمانہ کیاگیا،اس کے ساتھ ساتھ ایک دکانوں کو سیل کیاگیاجبکہ 02مقدمات درج کیے گئے اور22 افراد کوپابندسلاسل کیاگیا۔
ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا گیا کہ جرمانہ کے اعتبار سے اگست کے پہلے ہفتے میں نارووال پورے پنجاب میں چھٹی پوزیشن پر رہا۔











