سینیٹ قائمہ کمیٹی نے مارکیٹ کے استحکام کے لیے اشیائے ضروریہ کے اسٹریٹجک ریزرو قائم کرنے کی تجویز پیش کردی

71

کراچی، 13 ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے گندم اور چینی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کی تجویز   دی ہے تاکہ طلب اور رسد میں توازن اور قیمتوں پر ضابطہ کے ذریعے مقامی منڈی میں استحکام لایا جاسکے۔کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ اشیائے ضروریہ کی درآمد یا برآمد کے بارے میں درست وقت پر فیصلہ کرنے کے لیے قانونی مینڈیٹ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مربوط فورم ہونا چاہیے تاکہ مناسب قیمتیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی عوام کے لیے دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایوان بالا کی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو  چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت  ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) میں  منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا جبکہ سینیٹر فدا محمد نے آن لائن شرکت کی۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہاکہ پاکستان کے معاشی استحکام کا بہت زیادہ انحصار برآمدات میں نمایاں اضافے پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتیں اور ادارے ان  مقاصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ایک ایسے فورم کی ضرورت ہے جو درآمدات یا برآمدات کے بارے میں بروقت اور مربوط فیصلے لے سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے گندم، چینی یا دیگر ضروری اجناس کی درآمد کے فیصلے کابینہ اور اقتصادی رابطہ کونسل کی سطح پر ایک طویل عمل کے بعد کیے جاتے ہیں اور یہ فیصلے ہونے تک صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے پرائیویٹ سیکٹر کو چینی کی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے سابق حکومت کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی رائے ہے کہ ایسے فیصلے کابینہ کی سطح پر نہیں ہونے چاہئیں۔متعلقہ حکومتی اداروں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ طلب اور رسد کی صورتحال، عالمی منڈی کے رجحانات اور مستقبل کی ضروریات، ممکنہ پیداوار اور ملک میں ذخیرہ کی دستیابی کی بنیاد پر ضروری اشیاء کی درآمد یا برآمد کے بارے میں فیصلہ کریں۔ چینی اور اس طرح کی دیگر اشیاء بنیادی ضروریات میں شامل ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ان کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ضروری ہیں۔

سینیٹر فدا محمد نے ایسی جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جو ملک کے معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف کا باعث بنیں۔انہوں نے مقامی کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ اور درآمدی گندم کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے موثر چیک اینڈ بیلنس میکانزم پر بھی زور دیا۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اجناس کی تجارت میں بروقت فیصلوں کی اہمیت پر زور دیا اور ٹی سی پی کو کسی بھی اجناس کی بروقت  اور کم قیمت پر درآمد کے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے بااختیار بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ پیداوار، موجودہ طلب اور ضروری اشیاء کی مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لینے اور مارکیٹ کے استحکام کے لیے بروقت اقدامات کرنے کے لیے ایک مستقل طریقہ کار ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے تمام مراحل پر درآمدی گندم اور چینی کے معیار کو برقرار رکھنے کے مروجہ طریقہ کار اور اس سلسلے میں مختلف متعلقہ اداروں کے کردار کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔

قبل ازیں چیئرمین ٹی سی پی رافع بشیر، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تجارت احسن علی منگی اور دیگر افسران نے کمیٹی کو ٹی سی پی کے افعال، مالیاتی امور ،ریونیو جنریشن، چینی، گندم اور یوریا کھاد کی درآمد کے بارے میں بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ ٹی سی پی کی طرف سے تمام درآمدات وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت کی ہدایت پر کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور وزارت صنعت گندم، چینی اور یوریا کی پیداوار سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور ان اجناس کی مطلوبہ مقدار میں درآمد یا برآمد کی سفارش کرتی ہے۔