صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب و بانی حلقہ اربابِ ذوق اسلام کی خودنوشت ’’ بزمِ جہاں افسانہ ہے‘‘ کی تقریب پذیرائی کا انعقاد

144

اسلام آباد، 14 اکتوبر ( اےپی پی): گزشتہ روزحلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کے خصوصی اجلاس میں صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب، ممتاز افسانہ و ڈرامہ نگار و بانی حلقہ اربابِ ذوق اسلام کی خودنوشت ’’ بزمِ جہاں افسانہ ہے‘‘ کی تقریب پذیرائی منعقد کی گئی جسے منشا یاد کے بھانجے اور حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کے سیکرٹری خلیق الرحمٰن نے ان کے وفات کے بعد یکجا کر کے شائع کیا ہے۔ اس پروقار تقریب کی صدارت ممتاز ادیب، افسانہ نگار و ماہرِ تعلیم ڈاکٹر اقبال آفاقی نے کی۔ مہمانانِ خصوصی ممتاز ادیب و افسانہ نگار محمد حمید شاہد اور ڈاکٹر عبدالوحید رانا تھے۔ منشا یاد کے خاندان کے افراد نے خصوصی طور پر شرکت کی جن میں بیگم منشا یاد، ان کی صاحبزادی نومہ شبنم، بڑے بیٹے فرخ جمیل، چھوٹے صاحبزادے کاشف نوید اور دیگر عزیز و اقارب شامل تھے۔

تقریب کی نظامت ممتاز براڈ کاسٹر اور شاعر حیدر فاروق نے کی۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا جس کا شرف مدیر اخبار اردو تجمل شاہ کو حاصل ہوا۔ اظہارِ خیال کرنے والوں میں سٹیج کی شخصیات کے علاوہ رخسانہ صولت، منظر نقوی، عرفان احمد عرفی، فرخ جمیل، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، نومہ شبنم، اکمل شہزاد گھمن، احمد اعجاز، خلیق الرحمٰن اور محمد اکبر نیازی شامل تھے۔

تمام مقررین نے شاندار انداز میں منشا یاد کے فن اور شخصیت پر بات کی اور اس خودنوشت کو اردو ادب کی اس صنف میں اہم اضافہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منشاء یاد کی یہ خودنوشت محض ایک یادداشت نہیں بلکہ ان کے بلند پایہ فن کا بھی ایک نمونہ ہے اور ایک تاریخی و ادبی کارنامہ ہے۔ کیونکہ اس میں ایک عظیم فنکار کا فن اور اس عہد کے ادبی منظرنامے کا عمدہ نمونہ موجود ہے اور ان کی ذات میں موجزن خیالات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے اس خود نوشت میں سچائی، شخصیت کے پَرتَو اور فن کی قدروں کے احساس سے بھی رنگ بھرا ہے۔ اور یہ طلسمی خاصیت اور کارفرمائی ان سے جڑی ہر دیگر ادبی تخلیق میں بھی نظر آتی ہے۔ ان کی ادب کی ترویج کے لیے کاوشیں دنیائے ادب میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔

 اس اجلاس میں اہم علمی و ادبی شخصیات، اردو زبان و ادب کے سکالرز، صحافیوں، ادبی تنظیموں کے نمائندوں اور زندگی کے دیگر شعبوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور منشا یاد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔