حیدرآباد، 8 نومبر (اے پی پی): نگراں صوبائی وزیر روینیو، صنعت و تجارت سندھ محمد یونس ڈھاگا نے مشکوک اندراج والے کیسز اور ریونیو کے معاملات کی تصدیق کے کام میں حیدرآباد ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ ریونیو ملازمین کی جانب سے سست رفتاری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہیں کی ہیں کہ کام کی رفتار تیز کریں۔
آج کمشنر حیدرآباد کے دفتر میں ویڈیو لنک کے ذریعے حیدرآباد ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگراں صوبائی وزیر نے گزشتہ ماہ کے اجلاس کے پس منظر میں ڈپٹی کمشنرزکی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز پر زور دیا کہ وہ مشکوک اندراج کے کیسز کی چھان بین اور ریونیو کیسز کی تصدیق کے کام کو جلد نمٹائے جانے کو یقینی بنائیں تاکہ ریونیو کیسز کی بڑی ہوئی تعداد کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹس کو باقاعدگی سے کمشنر آفس میں بھیجی جائیں ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی مختیارکار یا اسسٹنٹ کمشنر ریکارڈ میں ہیرا پھیری میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی-
محمد یونس ڈھاگا نے ریونیو سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تعلقہ کی سطح پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ریونیو کے تمام معاملات میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریونیو ایکٹ کے مطابق مشکوک انٹری کیسز کا فیصلہ کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو دوبارہ بااختیار بنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
صوبائی وزیر محمد یونس ڈھاگا نے کہا کہ سرکاری محکموں کی ساخت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افسران اور اہلکاروں کو عام آدمی کے لیے سہولت کار تصور کیا جا سکے۔ انہوں نے کچھ اضلاع میں فیسیلیٹیشن ڈیسک کے قیام کی کوششوں کو سراہا جس سے ای سروس سندھ ایپ جلد شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
حیدرآباد سائٹ کے مسائل کے حوالے سے ایک اور اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگران وزیر روینیو، صنعت و تجارت سندھ محمد یونس ڈھاگہ نے متعلقہ افسران کو حیدرآباد سائٹ میں گرین بیلٹ اور تجاوزات کے خاتمے کے کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔











