لاہور8نومبر( اے پی پی ): وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے آج بند روڈ کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور منصوبے کا دورہ کیا۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے سگیاں سے بابو صابو انٹرچینج تک کے روٹ کا معائنہ کیا۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے منصوبے کے تعمیراتی کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلی محسن نقوی نے پراجیکٹ کی روڈز کو مزید کشادہ کرنے کے لئے ہدایات دیں اور کہا کہ سٹرکوں کے اطراف تجاوزات کو ہٹایا جائے۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے بابو صابو میں پراجیکٹ سائٹ کا معائنہ کیا اور ڈیزاین کو بہتر بنانے کے لئے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں فوری پلان پیش کیا جائے اور تعمیراتی کاموں کے دوران ٹریفک کی روانی کے لئے بہترین مینجمنٹ کی جائے۔ وزیر اعلی محسن نقوی کو پراجیکٹ پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ کمشنر لاہور ڈویژن۔ سی سی پی او۔ ڈپٹی کمشنر۔ ڈی آئی جی آپریشنز۔ دونوں پیکیج کے کنٹریکٹرز اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ عوام سے اپیل ہے چھٹی کے روز اپنے گھروں میں قیام کریں۔ماحولیاتی اور ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت دفعہ 144 نافذہے لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہیں آنے دیں گے۔ یوم اقبال ؒ پراتنی سختی نہیں ہوگی لیکن بعد میں سختی سے انسداد سموگ اقدامات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ جتنی ٹریفک کم ہوگی اتنا ہی ماحول بہتر کرنے میں آسانی ہوگی۔ سموگ کے حوالے سے اگلے 4 روز انتہائی اہم ہیں۔ تاجر برادری سے رابطے میں ہیں، تاجربرادری کو دیکھنا چاہیے کہ ٹریفک بھی بند ہوگی اور لوگ بھی سڑکوں پر نہیں ہونگے۔ تاجربرادری مارکیٹیں بند کرنے کے حوالے سے اعلان بھی کرے گی۔ انسداد سموگ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے سموگ میں ضرور کمی آئے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک سے سموگ کیلئے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ کوشش ہے بند روڈ پراجیکٹ 31جنوری تک مکمل کر لیا جائے۔بند روڈ کنٹرولڈ ایکسس پراجیکٹ سے رنگ روڈ سرکل مکمل ہو گا،ایس ایل تھری اور بند روڈ ایک ساتھ منسلک ہونگے۔ساری اہم سڑکوں پر کام ہورہا ہے مستقبل میں بہت مثبت اثر ات مرتب ہونگے۔ زیرتکمیل ترقیاتی پراجیکٹس کی وجہ سے ٹریفک مسائل اور دشواری ضرور ہے لیکن تکمیل پر 30منٹ کا سفر 15منٹ کا ہو گا، لانگ ٹرم فائدہ ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایس ایل فور پراجیکٹ وفاقی حکومت کا ہے، پنجاب حکومت اس میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ 6،6 سال سے نامکمل پراجیکٹس کوشش کرکے مکمل کررہے ہیں۔











