سکھر: تمام ڈسپوزل اسٹیشنز، برساتی نالوں اور انڈر گراونڈ نالوں کی 70 فیصد سے زائد ڈی سلٹنگ کا عمل مکمل کر دیا گیا ہے،ترجمان سندھ حکومت

18

سکھر۔17جولائی(اے پی پی):ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے آئندہ مون سون بارشوں کے سلسلے میں سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے لیے گئے پیشگی اقدامات کے سلسلے میں میانی ڈسپوزل اسٹیشن پر منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں کے دوران شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شدید بارش کو تفریح کے طور پر ہرگز نہ لیا جائے، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے، جبکہ ضروری ادویات پہلے سے اپنے پاس موجود رکھیں اور کھمبوں، درختوں اور مین ہولز سے احتیاط برتا جائے، بالخصوص اس دوران بچوں کا زیادہ خیال رکھا جائے، شہر کی تمام 42 ڈسپوزل اسٹیشنز کو اپ گریڈ کرتے ہوئے اسٹینڈ بائی جنریٹرس فراہم کر دیے گئے ہیں، شہر بھر کے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز، برساتی نالوں اور انڈر گراونڈ نالوں کی 70 فیصد سے زائد ڈی سلٹنگ کا عمل مکمل کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں کے دوران پرانہ سکھر میں پانی کے ٹھہرنے کا مسئلہ اب حل ہو چکا ہے، اس سلسلے میں بھی ایک ڈیڈییکٹڈ ایمرجنٹ رین میکینزم سسٹم ترتیب دیا گیا ہے جس سے ان جگہوں پر بھی پانی کے ٹھہراوکے مسئلے کو کنٹرول کیا جائے گا، شہر میں 31 ایسے کمزور مقامات ہیں، جن کے لیے بلدیہ اور پی ڈی ایم اے کے تعاون سے ڈی واٹرنگ مشینری خرید کر کے ان مقامات پر نصب کر دی گئی ہے، علاوہ ازیں سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے 2 کیو آر ایف گاڑیاں بھی خرید کر دی گئی ہیں جو کہ ابھی میانی ڈسپوزل اسٹیشن پر موجود ہیں، یہ کیو آر ایف گاڑیاں کسی جگہ پر اضافی اےشو کی صورت میں 30 منٹ کے اندر پہنچنے کی پابند ہونگی تا کہ ایشو کو بلا تاخیر حل کیا جا سکے۔

 ترجمان سندھ حکومت نے بتایا کہ تمام میونسپل افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں مون سون سیزن کے دوران 24 گھنٹے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، شہر بھر میں فیوئل سپلائی کے لیے 5 گاڑیاں اور میونسپل ملازمین کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔