خواجہ عمران نذیر سے قرشی یونیورسٹی کے وفد کی ملاقات، نیچرل میڈیسن کے فروغ اور جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی پر اتفاق

19

لاہور، 6 اگست (اے پی پی): صوبائی وزیر صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر سے قرشی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں چیف ایگزیکٹو قرشی فاؤنڈیشن عدیل سعید، حکیم محمد احمد سلیمی، اور ڈاکٹر پروفیسر سید منصور العزیز شامل تھے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری صحت قلندر خان، ڈی جی ڈرگ کنٹرول محمد سہیل، منور حیات اور خواجہ طارق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے وزیر صحت کو نیچرل میڈیسن اور روایتی طب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ نیچرل میڈیسن ایک محفوظ، کم قیمت اور عوامی دسترس میں موجود طریقہ علاج ہے، جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں جعلی ادویات، اتائی ڈاکٹروں اور غیر مستند حکماء کے خلاف کارروائی پر اتفاق کیا گیا، جبکہ وفد نے آر ایچ سی، ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں حکماء کی تعیناتی پر عائد پابندی ختم کرنے کی اپیل کی۔ صوبائی وزیر نے نیچرل میڈیسن/ہربل علاج کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شروع کرنے کے فیصلے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نیشنل کونسل فار طب، پرووینشل ہیلتھ کئیر کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے افسران پر مشتمل ایک ٹیکنیکل ورکنگ کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ مقامی نیچرل میڈیسن انڈسٹری کو فروغ دے کر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ عوام کو بہترین اور محفوظ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں، اور ہم سب اسی جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔