اقوام متحدہ، 12 اگست ( اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان نے اقوام متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کو سمندری نظم و نسق کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشویشناک رجحانات بدستور جاری ہیں جن میں بے لگام بحری اسلحہ اندوزی، اسٹریٹجک پانیوں کی دانستہ عسکریت، اور طاقت کے مظاہرے و دباؤ کے ذریعے علاقائی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے بعنوان “بحری سلامتی، ابھرتے ہوئے چیلنجز کے حل کے لیے انسداد، اختراع اور بین الاقوامی تعاون” میں قومی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے سفیر برائے اقوام متحدہ، عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بعض حلقوں میں سمندروں کو مشترکہ ورثہ کے بجائے بالادستی جتانے کا میدان سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بحری علاقوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سمندر امن، خوشحالی اور شمولیتی ترقی کے خطے رہنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سوچ اس وقت بے نقاب ہو جاتی ہے جب بعض ریاستوں کو جان بوجھ کر بحری تعاون کے انتظامات سے باہر رکھا جاتا ہے، جس سے شمولیت کمزور، اعتماد مجروح اور سمندری توازن بگڑ جاتا ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ بحری سلامتی عالمی امن و استحکام کا لازمی جز ہے۔ ہمیں سمندروں کو اسٹریٹجک رقابت کے میدان بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنا چاہیے اور اس کے بجائے کثیرالجہتی، شمولیت اور تعاون کے عزم کو مضبوط کرنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کی طرف سے متعدد تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہدفی ٹیکنالوجی کی منتقلی، بحری ڈومین آگاہی کے آلات اور مشترکہ تربیتی پروگرامز فراہم کیے جائیں۔قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور بحری حادثات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری انتباہ اور تیز رفتار ردعمل کا نظام قائم کیا جائے، ابھرتی ہوئی بحری ٹیکنالوجیز، بشمول مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام، میں تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ سمندروں کو تنازع کا میدان بننے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی مکالمے اور اعتماد سازی کو فروغ دے کر بالادستانہ عزائم کی حوصلہ شکنی کی جائے اور عالمی تجارت کے لیے سمندری راستے کھلے رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی لچک اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بحری سلامتی کی حکمت عملی میں ضم کیا جائے، تاکہ ساحلی برادریوں کا تحفظ ہو اور سمندری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور اینالیٹکس جیسی ابھرتی ٹیکنالوجیز بحری سلامتی کو تبدیل کر رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی سائبر ہتھیار بنانے اور عدم مساوات جیسے خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے تجویز کیا کہ یہ اختراعی ٹیکنالوجیز ذمہ داری کے ساتھ، مساوی رسائی اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ ترقی دی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بحری خطرات کو بڑھا رہی ہے، پاکستان اس امر کی حمایت کرتا ہے کہ موسمیات،سمندر،سلامتی کے باہمی تعلق کو جامع اور شمولیتی عالمی فریم ورک میں شامل کیا جائے تاکہ کمزور ساحلی ریاستیں حالات کے مطابق ڈھل سکیں اور ترقی کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرِ عرب کو اپنا “پانچواں ہمسایہ” سمجھتا ہے جو اس کی معاشی اور اسٹریٹجک سوچ کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا محلِ وقوع بڑی سمندری شاہراہوں کے سنگم پر ہے، جو اسے ایک اہم ٹرانس شپمنٹ حب اور وسطی ایشیا کو عالمی تجارت سے جوڑنے کا لازمی دروازہ بناتا ہے۔
سفیر عاصم نے بتایا کہ پاکستان مشترکہ بحری افواج کے ٹاسک فورس 150 اور 151 میں شرکت، باقاعدہ علاقائی بحری سلامتی گشت، اور کثیر القومی بحری مشق “امن” کی میزبانی کے ذریعے عالمی بحری سلامتی میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال فروری میں ہونے والے تازہ ترین ایڈیشن میں دنیا بھر کی 60 سے زائد بحری افواج شریک ہوئیں، جس سے تعاون، اعتماد اور مشترکہ صلاحیت کو فروغ ملا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر بھی پاکستان نے مشترکہ بحری معلوماتی رابطہ مرکز کے ذریعے بحری رابطہ کاری کو بہتر بنایا ہے، اور سپارکو کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کو وسعت دی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور جدید بحری جہاز ٹریکنگ سسٹمز نے ردعمل کو تیز، 1800 سے زائد جانیں بچانے میں مدد، اور سمندر میں سرحد پار جرائم کے تدارک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔











