لسبیلہ ،13 ستمبر ( اے پی پی): رکن صوبائی اسمبلی زارین خان مگسی اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی قیادت میں تعلیمی، انقلاب ، بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں تعلیم کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے وہ تمام 72 سرکاری سکولز دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جو طویل عرصے سے بند پڑے تھے۔
اس اقدام کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں بچے ایک بار پھر سکول جانے لگے ہیں، جو ماضی میں تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم سے محروم تھے۔ سکولوں کی بحالی نے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ مقامی کمیونٹی میں امید کی نئی کرن بھی جگائی ہے۔
سکولوں کی بحالی سے درجنوں اساتذہ، تدریسی و غیر تدریسی عملے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ شفاف بھرتی کے تحت کنٹریکٹ اساتذہ، ایس بی کے(سجاد بلوچ کمیونٹی اسکالرشپ پروگرام) کے گریجویٹس اور ریٹائرڈ اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے، تاکہ معیارِ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
اس سارے عمل میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا۔ تحصیل سطح پر دورے، مشاورتی اجلاس اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت اسکولوں کی نشاندہی اور بحالی کا کام انجام پایا۔ مقامی آبادی کی بھرپور حمایت نے اس اقدام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اب اس منصوبے کا اگلا مرحلہ سکول عمارتوں کی مرمت، فرنیچر کی فراہمی اور دیگر تعلیمی سہولیات کی بہتری ہے، تاکہ طلبا کو ایک بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔تعلیمی حلقوں اور ماہرین نے لسبیلہ کی اس کامیابی کو بلوچستان بھر کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسی طرز پر دیگر اضلاع میں بھی تعلیمی نظام کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے۔











