لاہور، 10 اپریل (اے پی پی):327ویں عالمی وساکھی میلے کے موقع پر بھارت سے 2000 سے زائد سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، جہاں صوبائی وزیر اقلیتی امور و پردھان گردوارہ پربندھک کمیٹی رمیش سنگھ اروڑہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر نے یاتریوں کے ساتھ لنگر بھی تناول کیا جبکہ ان کے قیام کے دوران لنگر، ٹرانسپورٹ، میڈیکل اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، یاتریوں کی حفاظت کیلئے پنجاب پولیس اور رینجرز کے خصوصی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔سکھ یاتریوں کو بسوں کے تین مختلف قافلوں کی صورت میں گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب روانہ کر دیا گیا، جہاں وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے، بھارت کی مختلف ریاستوں امرتسر، ہریانہ اور دہلی سے آنے والے یہ یاتری 10 روز تک پاکستان میں قیام کریں گے۔
واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑہ نے دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ “گرو نانک کی دھرتی پر آپ سب کو جی آیاں نوں”۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خصوصی ہدایات پر یاتریوں کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے وزارت مذہبی امور، سیکرٹری عثمان علی خان، ایڈیشنل سیکرٹری ناصر مشتاق اور اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے جس پر وہ میڈیا کے بھی شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی توجہ سے سکھ یاتریوں کو بہترین طبی اور سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، پاکستان امن کا داعی ہے اور کشیدہ حالات کے باوجود ہزاروں ویزے جاری کرنا ہماری امن دوستی کا ثبوت ہے۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے اور سکھ مت کا آغاز اسی پاک دھرتی سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سکھ یاتریوں کیلئے پاکستان کے دروازے اور دل ہمیشہ کھلے ہیں اور وہ جب چاہیں اپنے گھر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ اپنی اس دھرتی سے محبت کرتے ہیں کیونکہ یہاں کے ذرے ذرے میں ان کی تاریخ موجود ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کرتارپور کوریڈور کو مکمل طور پر کھولا جائے تاکہ محبتوں کا یہ سفر جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں بھی ہماری امن کی کوششوں کو سراہنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 10 روزہ قیام کے دوران سکھ یاتریوں کو ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب سمیت دیگر مقدس مقامات کی زیارت کروائی جائے گی۔











