لاہور، 9 جولائی(اے پی پی): صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت اوقاف بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آٹھ نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں محکمہ اوقاف کے رواں مالی سال کے بجٹ تخمینہ جات کی منظوری دی گئی۔ بورڈ نے مذہبی امور ونگ میں ضروری عملے کی یکمشت بنیادوں پر بھرتی، نئے ڈائریکٹر زراعت کی آسامی کے جاب ڈسکرپشن، داتا دربار ہسپتال کی فیسوں کی بحالی اور نئی کمرشل سکیموں کی بھی منظوری دی۔ محکمہ اوقاف کے آٹھ ایڈہاک ملازمین کی ریگولرائزیشن یا ریلیف سے متعلق معاملہ محکمانہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اجلاس کے دوران مزارات پر نصب کیش باکسز کی آمدن، محکمہ کی مالی کارکردگی اور کرپٹ عناصر کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ مزارات پر نصب کیش باکسز کی آمدن ایک مقدس امانت ہے، تاہم ماضی میں اس میں خردبرد کے واقعات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرنے کے لیے ڈیجیٹائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے اور کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق محکمہ اوقاف میں جامع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں مؤثر مانیٹرنگ اور احتساب کے باعث مزارات کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوقاف کی زمینوں کو ناجائز قابضین سے ہر صورت واگزار کرانے، ڈیجیٹائزیشن کا عمل مزید تیز کرنے، مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھنے اور زرعی اراضی کے مؤثر استعمال کا جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے اجلاس کو بتایا کہ اوقاف ایکٹ، قواعد و ضوابط، شفافیت اور میرٹ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ مزارات کی آمدن، اوقاف کی املاک اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال اوقاف کی زمینوں کے لیز اور کنٹریکٹ ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں محکمہ اوقاف میں کی جانے والی اصلاحات اور محکمانہ آمدن میں اضافے پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اوقاف، ڈی جی اوقاف، ڈائریکٹرز اور بورڈ کے دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔











