خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری سے انڈونیشیا کے سفیر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

5

کراچی،15 جولائی (اے پی پی): خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری سے پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسینانتو سوکوتجو نے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

خاتونِ اول نے انڈونیشیا کے سفیر کو پاکستان-انڈونیشیا سرمایہ کاری فورم کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان باہمی احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے اور امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کے بانی صدر سوکارنو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات تھے۔

ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ویکسین کی تیاری، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی۔

آصفہ بھٹو زرداری نے زراعت کے شعبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے چاول، بالخصوص سندھ میں پیدا ہونے والے اعلیٰ معیار کے چاول کی ایک اہم منڈی ہے۔ زرعی تعاون کے فروغ سے کسانوں اور برآمدکنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ پام آئل اور دیگر زرعی اجناس کے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زراعت، غذائی تحفظ، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے انتظام میں انڈونیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ خاتونِ اول نے صحت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویکسین کی تیاری اور پولیو کے خاتمے کے لیے بھی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسینانتو سوکوتجو نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت، زراعت، سرمایہ کاری، صحت اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور انڈونیشیا کی یہ لازوال دوستی مستقبل میں مزید فروغ پائے گی۔