آزاد کشمیر کا الیکشن ایک ریفرنڈم ہے،کشمیر ایک سیاسی ایشو نہیں ہمارے وجود کا مسئلہ ہے،وزیر دفاع

6

سیالکوٹ, 26 جولائی (اے پی پی): وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایل اے 36جموں 3 کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  یہاں آباد مہاجرین نے 1947میں خون کی لکیر کو عبور کیا، اڑھائی لاکھ جانوں کو قربان کر کے یہاں پہنچے،ان مہاجرین کی ہمیشہ ہم نے مہمان نوازی کی،ان مہاجرین نے اپنے مال و جان کی قربانیاں دیں ہیں ،ان مہاجرین کے بچوں کو زبح کیا گیا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ گزشتہ 78سالوں میں الیکشن میں تضاد ضرور آتا رہا ہے، لیکن اب ایکشن کمیٹی بنا کر  پاکستان میں بسنے والے مہاجرین کو ایشو بنایا،وہ ہی ایکشن کمیٹی اس بار پاکستان اور کشمیر کے رشتے کو چیلنج کر رہی ہے،ان لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ کر پاکستان آئے ان قرض نہیں اتارا جا سکتا۔

وزیر دفاع نے  کہا کہ آزاد کشمیر میں کچھ ایسے علاقے ہیں جن کے ساتھ آزاد لگتا ہے لیکن انہوں نے قربانیاں نہیں دیں،اسی طرح کشمیر کے بہت سے علاقے ہیں جنہوں نے جانوں کی قربانیاں دیں،جنہوں نے آزاد کشمیر کے لئے قربانی نہیں دیں وہی مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنا چاہتے ہیں،ان کی آدھی سے زیادہ ابادی بیرون ملک مقیم ہیں جو وہاں سے فنڈنگ کرتے ہیں،جو زبان الیکشن کمیٹی کے ارکان بولتے ہیں وہ زبان بھارت والے بھی نہیں بولتے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے فوج اور پولیس کے اہلکار وہاں شہید ہوئے ،مزمت اور یکھہتی کی آواز صرف مسلم لیگ ن کی طرف سے آئی، آزاد کشمیر حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مصلحت سے کام لیا،ان کی مصلحت نے نام نہاد الیکشن کمیٹی کو تقویت بخشی، اس کا مفاد صرف ہندوستان کو جاتا ہے،کشمیر کے لئے کشمیری مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، انکی پوری زندگی جیلوں میں گزر چکی ہے،وہ لوگ آج بھی ہندوستان کے مظالم برداشت کر رہے ہیں،مہاجرین کی قربانیوں کو چیلنج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی سیٹوں پر سوال اٹھایا جاتا،ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ مجھے خوف آتا ہے،پتہ نہیں یہ کن کی فنڈنگ پر ایسی زبان بولتے ہیں،ایسا سوال اٹھایا جارہا ہے جو مہاجرین کی لازوال محبت کو چیلنج کر رہے ہے ہم اس رشتے کو متنازعہ نہیں بنانے دیں گے۔قائد اعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے،مجھے پیپلز پارٹی کی نیت پر شک نہیں لیکن سوالیہ نشان موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہاجرین کی سیٹیں ختم نہیں ہوں گی کشمیر میں بھی عوام کے سامنے یہ سوال رکھا جا رہا ہے  ان سیٹوں پر مسلم لیگ ن کی کامیابی گواہی ہو گی کہ کشمیر اور پاکستان کے رشتے کے تقدس کو سمجھتے ہیں۔مجھےاور میرے خاندان کو پاکستان نے بہت نوازا لیکن اس میں میری قربانی شامل نہیں،یہ ریفرنڈم ہے اس پر مسلم لیگ ن کا واضح اسٹینڈ ہے،کشمیر اور پاکستان کے رشتے کو  چیلنج کرے گا ہم اور مہاجرین مل کر اس رشتے کی حفاظت کریں گے،یہ ایک سیاسی ایشو نہیں بلکہ ہمارے وجود کا مسئلہ ہے،اسی ایک نقطے پر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ  آج جس جگہ پر آیا ہوں 1993میں یہ پسماندہ علاقہ تھا،ستر فیصد اس علاقے کے مسائل ہو چکے ہیں ،گزشتہ سال سیلاب نے بیت تباہی مچائی، میں نے اپنی آنکھوں سے اس علاقے کو ڈوبا ہوا دیکھا،رواں سال اس علاقے کے دیگر مسائل حل ہو جائیں گے،ہماری زمہ داری ہے کہ جہاں پانی جمع ہوں اس کے نکاس کے لئے اقدامات کریں۔