اسلام آباد،30اکتوبر (اے پی پی): چائنا ساؤتھ ایشیا فورم آن پاورٹی ریڈکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کوآپریشن 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان غربت کے خاتمے، پائیدار ترقی، معاشی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا گیا۔ فورم میں ترقیاتی تجربات کے تبادلے، سرمایہ کاری، تعلیم، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں علاقائی شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی نے تعلیم، فنی تربیت، روزگار اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یوران پاکستان اقدام کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں چین کے تعاون کو سراہا۔
اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے ساتھ غربت کے خاتمے اور ترقی کے کامیاب تجربات بانٹنے کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت زراعت، صنعت اور دیگر پیداواری شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشن گروپ کے نائب صدر یو تاؤ نے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں، ادارہ جاتی روابط اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے چین امور اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے صدر ڈاکٹر ظفر الدین محمود نے چین کے ترقیاتی تجربات کو دیگر ممالک کے لیے قابلِ استفادہ قرار دیا۔
فورم کے مختلف سیشنز میں غربت میں کمی، جامع ترقی، خواتین کی معاشی خودمختاری، روزگار کے مواقع، علاقائی تجارت اور صنعتی تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے پاکستان، چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان ترقیاتی شراکت داری، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔











