اسلام آباد،29جنوری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہسی پیک سائنس و ٹیکنالوجی اور زراعت میں چین کی ترقی کے ثمرات پاکستان پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔
ہفتہ کو چینی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں اپنے وفد کے ہمراہ اگلے ہفتے کے اختتام پر دورۂ چین کا منتظرہوں،چین جانا ہمیشہ باعثِ مسرت رہا ہے، ہمارے 70 سالہ قدیم تعلقات ہیں،پاکستان کے عوام اور چین کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں،اس لئے چین جانا ہمیشہ خوشی کا باعث ہے اور میں دورۂ چین کا منتظر ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہوئے ہیں،اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں پایا جانے والا یہ احساس ہے کہ چین ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہمارے ساتھ کھڑارہا ہے،پاکستان جب بھی کسی مشکل دورسےگزرا چین ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوااور پاکستان بھی چین کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ہم ہمسائے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں سکول میں پڑھتا تھا جب قراقرم ہائی وے تعمیر کی جارہی تھی،یہ شاہراہ چین کی حکومت اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے تعمیر ہوئی یہ ایک بہت مشکل منصوبہ تھا کیونکہ راستے بہت کٹھن تھے۔ بلند پہاڑی سلسلے تھےاور مجھے یاد ہے کہ بہت سے چینی کارکن شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے دوران جاں بحق بھی ہوئے،اس لئے یہ تعلقات بہت گہرے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور سی پیک نے بھی دو ملکوں کو مزید قریب کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دراصل سی پیک کے پہلے مرحلے میں رابطے بڑھانے اور توانائی کی پیداوار پر توجہ دی گئی اب سی پیک اگلے مراحل میں داخل ہو گیا ہے جہاں صنعتوں کو نئی جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہےہم اپنے خصوصی صنعتی زونز کو ترقی دینا چاہتے ہیں پھر خاص طور پر ہم اپنے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کیلئے مدد چاہتے ہیں کیونکہ چین میں زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیدوار کی شرح پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے،ہمیں اس سلسلے میں بھی مدد درکار ہے،اس کے علاوہ چین نے خشک سالی سے محفوظ کپاس کی کئی ایک اقسام تیار کی ہیں،پاکستان میں ہمارے پاس ایسی بہت سی زمین ہے جہاں کپاس کی یہ اقسام اگائی جا سکتی ہیں اس حوالے سے ہم چین سے مدد حاصل کریں گے،اس کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی ہےاور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب دنیا کا مستقبل ہے،چین نے اس تناظر میں بہت ترقی کی ہے اور اس شعبے میں بھی ہم چین سے مدد چاہیں گے۔
وزیراعظم نے چین کے عوام کو نئے قمری سال پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری توقع ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہوں جو دونوں ملکوں کیلئے باہمی طور پر فائدہ مند ہوں،ہم پاکستان میں معیشت کو بہتر بنانے اور لوگوں کی فلاح کے ساتھ ساتھ انہیں غربت سے نکالنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ہم پہلے ہی چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ایک چیز جس کا میں ذکر کرنا بھول گیا وہ یہ ہے کہ ہم چین سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے بڑے شہر کیسے تعمیر کیے ہیں چین میں بہت بڑے بڑے شہر ہیں اور جس طرح انہوں نے بڑے شہروں کے مسائل حل کیے ہیں میری مراد فضائی آلودگی اور کچرے وغیرہ سے نمٹنے سے متعلق ہے، اس حوالے سے ہم ان سے سیکھنا چاہتے ہیں ایک بڑے شہر میں ان چیزوں کے انتظامات کرنا ایک سائنس ہے،بد قسمتی سے ہمارے شہر بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں،پاکستان میں شہروں کے پھیلاؤ کا رحجان سب سے زیادہ ہےہم چین سے یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ شہری ترقی کے حوالے سے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔
سورس:وی این ایس، اسلام آباد











