تھرپارکر،08جنوری( اے پی پی ):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ تھر کی عوام کو بنیادی حقوق ملنے چاہئیں جو ان کا آئینی حق ہے، تھر کے عوام کو بنیادی حقوق نہ ملنا بڑی نا انصافی ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں سیشن کورٹ مٹھی میں تھرپارکر بار کی تقریب سے خطاب میں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تھر کو الله تعاليٰ نے کئی قدرتی معدنی وسائل سے نوازا ہے، مگر یہاں حق نہ ملنے کی بات سن کر بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تھر ایک خوبصورت علاقہ ہے اور تھر سے مجھے محبت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی خوشحالی ضلع انتظامیہ کی کارکردگی پر ہی منحصر ہے، ان کا فرض ہے کہ وہ تھر کی عوام کو سہولیات فراہم کریں۔
چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکرمحمد نواز سوہو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ نے باتیں سنائی اور جو یہاں وکیلوں نے مسائل پیش کیے ان میں بہت فرق ہے۔ آپ کی زمہ داری ہے کہ آپ یہاں تھر کی عوام کو سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کو ہدایت کی کہ اپنی بہتر کارکردگی کے ذریعے ہی عوامی مسائل کو حل کریں۔ تھر میں سیاحتی، مویشیوں، لیبر انڈسٹری اور ہاتھ کے ہنر کے فروغ کے لئے مواقع بہت زیادہ ہے اس کو فروغ دینے اور ملنا چاہیے اور سیاحتی مقامات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھر کی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کےلیے انصاف ضرور ملے گا، عدلیہ تھر کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کےلیے اپنا کردار ادا کرتے رہے گی۔انہوں نے کہا کہ تھر کے باسیوں کا کوئی بنیادی حق غضب ہونے نہیں دیں گے، اگر قانون کی ضرورت پڑی تو وہ بھی فراہم کریں گے، تھر میں تعلیم اور صحت کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل تھرپارکر بار کےصدر ایڈووکيٹ وسند تھری نے تقریب میں آمد پر چیف جسٹس کو پگڑی پہنائی اور دیگر وکلا نے بھی شالیں تحفے میں دیں۔
چیف جسٹس نے سیشن کورٹ مٹھی میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا افتتاح کیا اور کورٹ میں قائم ڈیجیٹل لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ صلاح الدین پنہور، محمد مبین لاکھو اور سیشن جج تھرپارکر موجود تھے۔
سورس: وی این ایس، تھرپارکر











