اسلام آباد،29جنوری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ40 سال بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہے، طالبان سے اختلاف اپنی جگہ، عوام کی مدد کے لئے آگے بڑھیں۔
ہفتہ کو چینی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان 40 سال سے مشکل صورتحال سے دوچار رہا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ 40 سال تک بیرونی طاقتوں نے افغانستان کو میدان جنگ بنائے رکھاتو 40 سال تک افغانستان کے لوگوں نے مشکلات برداشت کیں اور اب 40 سال بعد افغانستان میں امن کے قیام کا موقع ہاتھ آیا ہے،اس وقت افغانستان میں کوئی جنگ نہیں ہو رہی ہے اورچار دہائیوں بعد ایسا ہو رہا ہے،ان حالات میں بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جن لوگوں نے 40 سال تک مشکلات جھیلیں ہیں اور اب جب غیر ملکی فوجیں افغانستان سے چلی گئی ہیں،وہ اس کے نتائج سے صرف نظر کرتے ہوئے افغانستان کو ایسے نہیں چھوڑ سکتےکہ افغانستان کے لوگ ایسے حالات میں کیسے گزر اوقات کریں گےکیونکہ جب 1989 میں سوویت فوجیں افغانستان کو خیر باد کہہ گئیں اور دیگر نے بھی یہی کیا جس کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں دو لاکھ افغان مارے گئے اور ملک میں ایک اضطرابی کیفیت تھی اور اس افراتفری میں طالبان نے جنم لیا اور اب 20 سال بعد اگر ایک بار پھر سب افغانستان کو چھوڑ جاتے ہیں تو افغانستان کے چار کروڑ عوام کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہو گااور اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر افغانستان میں بحران پیدا ہوتا ہے تو ممکن ہےکہ وہی حالات پیدا ہو جائیں جو 20 سال قبل پیدا ہوئے تھےجب امریکی فوجی افغانستان میں داخل ہو گئے تھےاگر بحران پیدا ہوتا ہے تو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاس لیے عالمی برادری کو صرف اور صرف وہاں چار کروڑ انسانوں کے بارے میں سوچنا چاہیےچاہے انہیں طالبان حکومت پسند ہے یا نہیں اس بات کی ثانوی اہمیت ہونی چاہیے،افغانستان کے عوام کی فلاح پہلی ترجیح ہونی چاہیےانہیں اس وقت بد ترین انسانی بحران کا سامنا ہے اور انہیں جتنا جلد ممکن ہو سکے امداد کی ضرورت ہے۔
سورس:وی این ایس، اسلام آباد











