کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 407 ارب روپے کے آسان قرضے دیں گے؛وزیراعظم عمران خان  

31

 

اسلام آباد،28فروری  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ    مستحق خاندانوں کیلئے مالی معاونت 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 14ہزار روپے ،  گھروں کی تعمیر،  کسانوں اور کاروبار کیلئے 407 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے، انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں کو 30 ہزار روپے وظیفے کی فراہمی، اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری یا جوائنٹ وینچر کی صورت  میں  ٹیکس میں پانچ سال کی چھوٹ اور آئی ٹی سٹارٹ اپ پر 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس ختم کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے  کہا   کہ آئندہ بجٹ تک بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، مکانات کی تعمیر کیلئے 1400 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں، ملک اور معیشت اب صحیح راستے پر چل پڑے ہیں۔

پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  حکومت نے 80 لاکھ خاندانوں کیلئے احساس پروگرام کے تحت امدادی رقم کو 12 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کر دی ہے، گریجویٹس کو 30 ہزار روپے ماہانہ کی انٹرن شپ دلائیں گے، حکومت نے 26 لاکھ سکالرشپس دیئے ہیں اور اس کیلئے 38 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، پی ایم پورٹل کے ذریعے اس کیلئے شفاف نظام وضع کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں 100 فیصد چھوٹ دی گئی ہے، فارن ایکسچینج پر 100 فیصد چھوٹ دی گئی ہے۔ انہوں  نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی سٹارٹ اپس کیلئے 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس ختم کر دیا ہے، جو بھی انڈسٹری لگائے گا اس سے سوال نہیں پوچھا جائے گا، کل لاہور میں انڈسٹریل پالیسی کے پیکیج کا اعلان کروں گا۔

 وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز جو بھی سرمایہ کاری کریں گے یا جوائنٹ وینچر کے تحت کام کریں گے انہیں پانچ سال تک ٹیکسوں سے چھوٹ ہو گی، نوجوانوں اور کسانوں کو بلاسود قرضے دیں گے، غریبوں کو گھر بنانے کیلئے سستے قرضے دیئے جائیں گے، کسانوں، کاروبار اور گھروں کی تعمیر کیلئے دو سال کیلئے 407 ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں ے کہ ر/ہوں نے کہا کہ بینکوں کو بڑی مشکل سے عام آدمی کو قرضے دینے پر آمادہ کیا، پہلے بینک تنخواہ دار اور کمزور طبقے کو قرضے نہیں دیتے تھے، حکومت نے ان کیلئے آسانیاں پیدا کیں اور سبسڈائزڈ قرضے شروع کئے، کم آمدنی والے طبقات کیلئے بینک 150 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے چکے ہیں جبکہ 50 ارب روپے کے قرضے اب تک دیئے جا چکے ہیں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ صحت انشورنس کارڈ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، یہ غریب گھرانوں کیلئے بالخصوص بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ غریب گھرانوں میں جب کوئی بیماری ہوتی تھی تو وہ علاج کرانے سے قاصر ہوتے تھے، چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسز نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے لوگ بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا رخ کرتے تھے، صحت کارڈ جیسی سہولت ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے، پنجاب میں مارچ کے آخر تک ہر گھرانے کے پاس صحت کارڈ کی سہولت ہو گی جس کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال سے کرایا جا سکے گا، اس سے پورا صحت کا ایک نظام وجود میں آئے گا اور دیہات میں بھی ہسپتالوں کا جال بچھ جائے گا، غریب سے غریب گھرانہ بھی پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کی سہولت حاصل کر سکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران ایک مشکل سے نکلتی تھی تو دوسری مشکل آ جاتی تھی لیکن سارا وقت میں اور میری حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک اور معیشت اب صحیح راستے پر چل پڑے ہیں، بلومبرگ اور آئی ایم ایف کی رپورٹیں میری اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان اب مشکل وقت سے نکل کر صحیح راستے پر چل پڑا ہے۔