چترال،14 اپریل(اے پی پی): رئیس اور کٹور خاندان کا دورحکومت، جسے مقامی زبان میں مہتر بھی کہا جاتا ہے ، اس دور حکومت میں بعض ایسے مساجد تعمیر ہوئے جو فن تعمیر کی شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔ وادی آیون میں نہر کے کنارے اس قسم کی ایک مسجد جو سو سال قبل تعمیر ہوئی ہے، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کی تاریخ فارسی زبان کے ایک شعر سے بھی ملتی ہے۔اس مسجد کی میناروں، ستونوں، دروازوں پر کشیدہ کاری اور فن تعمیر کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
مروجہ اصولوں کے مطابق جو عمارت 70 سال پرانی ہوجائے تو اسے قومی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے مگر سو سال سے بھی زیادہ پرانی اس مسجد کو ابھی تک قومی اثاثہ قرار نہیں دیا گیا ہے
علاقے کے لوگ محکمہ آثار قدیمہ اور متعلقہ اداروں کے ارباب احتیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریحی مسجد کی تزئین و آرائش اور اس کی حفاظت کیلئے ضروری اقدام اٹھائے۔











