حیدرآباد،21 اگست (اے پی پی): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےحالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے پیش نظر حیدرآباد ضلع کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حیدرآباد میں گریویٹی سے پانی کی نکاسی نہیں ہوتی اور برساتی پانی پمپنگ کے ذریعے نکاس کیا جاتا ہے ، اس مرتبہ صوبائی کابینہ کے وزراءمشیران ، ایم پی ایز اور متعلقہ افسران نے مل کر کام کیا یہی وجہ ہے کہ صورتحال 2020 کے مقابلے میں کچھ بہتر ہے۔
وہ ہفتہ کو رات گئے حیدرآباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد شہباز ہال حیدرآباد میں منتخب نمائندوں اور متعلقہ افسران کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ہم وفاقی حکومت کے شکرگزار ہیں کہ وہ ہماری مدد کر رہے ہیں ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بارش متاثرین کو 25 ہزارفی خاندان آئندہ 15 روز میں موصول ہوجائینگے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت لوگ تکلیف میں ہیں اور سندھ حکومت لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہے کہ ہم لوگوں کو ریلیف پہنچائیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہر جگہ ٹینٹ کی ضرورت ہے، ہمارے پاس 86 ہزار ٹینٹ تھے لیکن مسلسل آفات کے باعث ختم ہوگئے ہیں مگر ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ٹینٹس بارش متاثرہ علاقوں میں فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ رلیف کیمپس میں مقیم لوگوں کوضلع انتظامیہ پکا ہوا کھانا پہنچائے،اس ضمن میں سندھ حکومت فنڈز مہیا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈی سیز کو نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں اپنے پورے ڈرینج سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہے اور یہ کام آسان نہیں لیکن ایک منصوبہ بندی کے ذریعے اپ گریڈ کرتے جائینگے اور اگر ہم نے محنت اور دیانتداری سے کام کیا تو اگلی بارشوں میں نقصانات بہت کم ہونگے۔انہوں نے کہا کہ وہ حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی میں نوکری کر چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایچ ڈی اے کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے ساتھ ہے اورہم سب کو ملکر کام کرنا ہے۔
قبل ازیں ڈی سی حیدرآباد فواد غفار سومرو نے حیدرآباد میں حالیہ شدید بارشوں میں ہونے والے نقصانات ، نکاسی آب کے کاموں اور مطلوبہ مشینری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں بارشوں کی تباہ کاریوں کے پیش نظر صوبے کے اضلاع کا دورہ کر رہا ہوں اور یہ صوبے کی تاریخ میں شدید ترین بارشیں ہوئی ہیں جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 400 گنا زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حیدرآباد کو بھی آفت زدہ قرار دیا ہے، اس کا نوٹیفکیشن پیر تک جاری ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کو 25 ہزار فی خاندان اگلے دو ہفتوں کے اندر مہیا کردیئے جائینگے، ہم متاثرین اور بے گھر ہونے والے لوگوں کو ریلیف دینگے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جہاں جہاں بارش کا پانی کھڑا ہے اس کی نکاسی کا بندوبست کر رہے ہیں اور جو لوگوں کا نقصان ہوا ہے ہم اس کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا پانی صرف اور صرف پمپنگ کے ذریعے نکلتا ہے ، حیدرآباد کا ڈرینج سسٹم 30 ایم ایم کی نکاسی کا ہے اور اگر 200 ایم ایم زیادہ بارش ہوگی تو پانی کیسے نکلے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم حیدرآباد میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بھی کرنے جارہے ہیں جو کہ آئندہ ماہ 9 ستمبر سے کام شروع کر دے گا جبکہ 6 مہینوں کے اندر حیدرآباد کی سڑکوں اور ڈرینج کے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں کے بعد صوبے بھر کو آفت زدہ قرار دینا ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہم واٹر بورڈ کو بھی ٹھیک کر رہے ہیں، اسی طرح ہم واسا کو بھی ٹھیک کرینگے۔
ایک سوال پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایل بی او ڈی میں ابھی بھی پانی کا وہ لیول ہے جو 2020 میں تھاجبکہ ایل بی او ڈی میں 2020 میں زیادہ شگاف ہوئے تھے اب صرف ایک شگاف ہوا ہے جو فوری بند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل بی او ڈی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر صوبائی وزراءشرجیل انعام میمن ، ناصر حسین شاہ ، ایم این اے طارق شاہ جاموٹ، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی صغیر قریشی ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ری ہیبلی ٹیشن و ریلیف رسول بخش چانڈیو ، ایم پی ایز راشد خلجی، ناصر قریشی ، سیکریٹری لائیو اسٹاک تمیزالدین کھیڑو، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد ندیم الرحمان میمن ، ڈی آئی جی پیر محمد شاہ ، ڈی سی حیدرآباد فواد غفار سومرو ، ڈائریکٹر اطلاعات حیدرآباد سوائی خان چھلگری ، پی پی کے علی محمد سہتو، صنم تالپور ، برکت ببرو دیگر بھی موجود تھے۔











