کراچی،8اگست (اے پی پی):نو محرم الحرام کا مرکزی جلوس بروز پیر نشترپارک سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی گزرگاہوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوا،قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔ سینٹرل پولیس آفس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا تھا۔
صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن ، سعید غنی ، مشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب نے سینٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا، آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے عاشورہ کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات پر صوبائی وزراء کو بریفنگ دی ۔ مرکزی جلوس سے قبل ایم اے جناح روڈ اور دیگر ملحقہ علاقوں کو سیل کرکے عمارتوں پر شوٹر تعینات کیئے گئے تھے۔
جلوس کے قبل نشترپارک میں مجلس ہوئی جس سے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا بعدازاں دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے پاک حیدری اسکاوٹس کی قیادت میں مرکزی جلوس برآمد ہوا اور امام بارگاہِ علی رضا پر نمازظہرین باجماعت اداکی گئی، جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوا۔ج
لوس کی گزر گاہوں، مجالس کے مقامات اور اطراف میں موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔ ایم جناح روڑ، صدر، ایمپریس مارکیٹ، ریگل اور لائٹ ہاوس کی مارکیٹیں اور دکانیں سیل کرکے جلوس کے راستوں میں آنے والی گلیوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا تھا۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی بھی عائد کردی گئی تھی جب کہ راستوں میں چیکنگ کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔مرکزی جلوس میں 5 ہزار سے زائد پولیس افسران اور جوان فرائض انجام دیئے جب کہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے حساس علاقوں سمیت دیگر مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ بھی گئی۔











