ملتان؛ویمن یونیورسٹی میں تین روزہ انٹرنیشنل کانفرنس اختتام پذیر ، وبائی صورتحال میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر زور

10

ملتان، 08 اکتوبر (اے پی پی):  ویمن یونیورسٹی ملتان میں شعبہ ایجوکیشن اور سائیکالوجی کے زیراہتمام ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنسز اس اعلامیہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ تعلیم  کے فروغ میں وباء یا کوئی بھی ایمرجنسی صورتحال کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا، مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو آباد رکھا جائے گا،ایسی پالیساں مرتب کی جائیں جس میں کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں طلباء اور فیکلٹی کا درس وتدریس کا سلسلہ نہ ٹوٹ سکے۔

اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ  کورونا وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ علم کا سفر رکنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کانفرنسز کا سلسلہ جاری رہے گا یہ نیٹ ورکنگ علم اور تجربات کے اشتراک کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

 ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد تعلیم کے شعبے میں ہونے والی جدید تحقیق، چیلنجز اور امکانات کا کھوج لگانا تھا  تاکہ مستقبل میں ہم درس و تدریس میں ٹیکنالوجی کے استعمال، تعلیم میں کوالٹی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں پر مزید فوکس کر سکیں۔ کورونا یا کسی بھی ناگہانی صورتحال میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اس کےلئے غیر روایتی طریقہ تدریس بھی اپنائے جائیں گے تاکہ طلباء کا تعلیم کا سلسلہ ٹوٹ نہ سکے، اور تعلیمی ادارے آباد رہیں ۔

 سیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہا کہ ملک میں تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے اساتذہ کو پالیسی سازی میں متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔

سائیکالوجی کانفرنس کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا اس دور میں جہاں دہشت گردی اور عدم برداشت کا راج ہے، انسانی فطرت کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔  انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ شعبہ سائیکالوجی عصری تحقیق میں رجحان ساز ہے اور محققین کو نظم و ضبط میں اکٹھا کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

 شعبہ سائیکالوجی کے زیر اہتمام ’’ تعلیم اور کلینیکل سوشل سائیکالوجی ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونےوا لی کانفرنس کے اختتامی سیشن میں  ماہرین نے تجاویز میں حکومت سے درخواست کی کہ ہسپتالوں ، سکولزاور پالیسی ساز اداروں میں نفسیاتی صحت کے ماہرین کے لیئے خصوصی نشستیں قائم کی جائیں،جبکہ نفسیاتی صحت کے ماہرین کی تربیت کے معیارات بھی وضع کیئے جانے چاہئے۔

کانفرنس میں نفسیاتی صحت کے خصوصی جرنلز کے آغاز کی تجویز پر غورکیا گیا۔ ذہنی، نفسیاتی صحت اور تندرستی سے آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے جو مجموعی صحت اور تندرستی کو فروغ دیتے ہیں او زندگی میں توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

بعدازں شعبہ سائیکالوجی کے طالبات نے سائیکو ڈراما بعنوان “صنفی امتیاز، تناؤ اور سماجی توقعات، ذہنی صحت اور شناخت کے بحران” پیش کئے جن کے ججز ڈاکٹر قمر رباب، ڈاکٹر  عنبرین خیزان اور اقرا اشرف تھیں جبکہ پوسٹر مقابلے کے ججز ڈاکٹر رفیعہ رفیق( پنجاب یونیورسٹی), اور ڈاکٹر شاہدہ بتول ( گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی) تھیں۔

 اس تین روزہ انٹرنیشنل کانفرنس میں 50 تحقیقی خلاصے اور 11 بین الااقوامی مقررین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مختلف  عنوانات پر ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا گیا جس کی فوکل پرسن ڈاکٹر اسماء بشیر تھیں ۔آخر میں کانفرنسز کی شرکا میں سرٹیفکیٹس اور شیلڈ تقسیم کی گئیں ۔