لاہور،19دسمبر (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے ستلج سے سندھ تک پنجاب کی تعمیر وترقی کے سب سے بڑے تاریخی منصوبے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف شہرو ں کو موٹروے سے منسلک کرنے کا شاندار منصوبہ تیار کر لیا ہے اور منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں کاشتکاروں، تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لئے ترقی او رخوشحالی کا نیا باب کھلے گا، 7اضلاع کے لئے ستلج انڈس اکنامک نیٹ ورک پراجیکٹ (SIEN) کی منظوری دے دی ہے، 160ارب روپے کی لاگت سے سین(SIEN) پراجیکٹ مختلف مراحل میں مکمل کیاجائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وزیراعلی آفس میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی پرویز الہی نے کہا کہ7 اضلاع قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں او ربہاولپور موٹرویز،جی ٹی روڈز اور انڈس ہائی وے سے منسلک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں قصور بائی پاس تا لاہو ررنگ روڈ جی ون سین کوریڈور مکمل کیاجائے گا، قصور بائی پاس تا لاہو ررنگ روڈ جی ون سین کوریڈور پر 15ارب روپے لاگت آئے گی،پنجاب کے دور دراز 7اضلاع ایم ٹو، ایم تھری، ایم فور، ایم فائیو اور ایم الیون موٹروے سے منسلک ہو جائیں گے۔
وزیراعلی نے کہا کہ سین پراجیکٹ کے ذریعے 49فیصد اجناس پیدا کرنے والی منڈیوں کی موٹروے کے ذریعے رسائی بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ7اضلاع میں خوراک، زراعت اور میٹل پراڈکٹ کے 3431انڈسٹریل یونٹس کو فروغ ملے گا جبکہ 7اضلاع کے 9قصبوں اور چھوٹے شہروں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔
چودھری پرویز الہی نے کہا کہ نارتھ، سائوتھ کوریڈور دیپالپور، پاکپتن ،وہاڑی، ملتان روڈ اورہیڈ سلیمانکی منچن آباد، پہاولپور او ربہاولنگر روڈ کومنسلک کرے گا۔ بہاولپور این فائیوتک چھانگڑہ شرقی انٹرچینج منسلک ہوں گے۔حاصل پور کو رجانہ موٹروے ایم تھری سے براستہ وہاڑی، بورے والااور چیچہ وطنی منسلک کیا جائے گا۔ چشتیاں تا بورے والا اور ساہیوال تا سمندری رابطہ سڑک بنے گی۔بہاولنگر تا ساہیوال کوبراستہ عارف والا ایم تھری موٹروے سے منسلک کیا جائے گا۔منچن آباد سے براستہ پاکپتن ساہیوال تک سین کوریڈور بنے گا۔ وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب کے پسماندہ اور دور دراز اضلاع میں ترقی اور روز گار کے مواقع پیدا ہونے سے بڑے شہروں پر دبا کم ہوگا۔الہ آبادبراستہ چونیاں، پتوکی او رہلہ جڑانوالہ انٹرچینج موٹروے ایم تھری سے منسلک کیا جائے گا۔شرقپور انٹرچینج ایم تھری موٹروے کو رائیونڈ روڈ رنگ روڈ سے منسلک کیاجائے گا۔سین پراجیکٹس پنجاب کے 7اضلاع میں زرعی، صنعتی او رتجارتی سرگرمیوں پر فروغ ملے گا۔ پاکپتن او راوکاڑہ میں سپیشلائز پوٹیٹو مشینری سنٹر بننے سے آلوکے کاشتکاروں کو معاشی فائدہ ہوگا۔ بہاولنگر میں سولر ڈرائیر اور کلر سارٹر لگنے سے سرخ مرچ کے کاشتکار فصل کی بہتر قیمت لے سکیں گے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ 7 اضلاع کی تحصیلوں اور چھوٹے بڑے قصبو ں میں تجارتی، معاشی اور سماجی سرگرمیاں بڑھیں گی۔وہاڑی انڈسٹریل سٹیٹ کو ایگرو انڈسٹریل پارک میں تبدیل کیا جا ئے گا۔قصور کی سمال انڈسٹریل سٹیٹ اور ڈرائی پورٹ میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکپتن میں ملٹی ماڈل فریٹ ٹرمینل قائم کیاجائے گا،بہاولنگر اور اوکاڑہ میں ایگرو انڈسٹریل پارکس قائم کئے جائیں گے۔
چیف سیکرٹری عبداللہ خان سنبل،سابق وفاقی سیکرٹری و چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سلمان غنی، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری خزانہ، سینئر سپیشلسٹ اکنامکس اربن یونٹ او ر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔











