سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت کے وفد کا   شاکر علی میوزیم کا دورہ

36

لاہور۔10مارچ  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کے وفد نے چیئرمین افنان اللہ خان کی قیادت میں جمعہ کو   شاکر علی میوزیم کا دورہ کیا۔ شاکر علی میوزیم کیوبسٹ پینٹنگ، پرندوں کی تصاویر، ڈرائنگ، تدریس اور عربی خطاطی کے لیے جانا جاتا ہے۔اس موقع پر میوزیم کی انچارج فاطمہ سلمان نے ممبران کو بتایا کہ یہ ایک عمدہ میوزیم ہے جس میں  آرٹ کے طلبہ اور اساتذہ کو بہت کچھ سیکھنے  کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاکر علی میوزیم ایک گھر تھا جسے شاکر علی نے برسوں پہلے  بنایا تھا اوروہ 1974 میں نیشنل  کالج آف آرٹس کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد صرف ایک سال تک اس میں رہے۔انہوں نے کہاکہ شاکر علی میوزیم تعمیراتی خوبصورتی کا ایک ٹکڑا ہے جس کا بیرونی حصہ جلی ہوئی اینٹوں سے بنا جبکہ اندرونی حصہ تصور شدہ اور پینٹنگ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ عجائب گھر میں شاکر علی کے کچھ نجی اثاثے بھی ہیں جن میں 1964 میں ان کے اپنے ہاتھ سے لکھا گیا قرآن پاک  اور وہ ایوارڈز و تمغے بھی موجود ہیں جو انہیں اپنے کیریئر کے دوران بطور مصور اور استاد ملے۔اسی طرح کانسی کے مجسموں اور لکڑی کی شکل میں کچھ انتہائی عمدہ نوادرات بھی شامل ہیں ۔ چیئرمین افنان اللہ خان اور دیگر کمیٹی ممبران نے لیجنڈ شاکر علی کے فن پاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور میوزیم کو برقرار رکھنے پر انتظامیہ  کی کوششوں کو سراہا۔