لاہور، 14اپریل (اے پی پی): نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت جیل ریفارمز سے متعلق اجلاس منعقد ہوا اور قیدیوں کے جیلوں میں ویڈیو لنک ٹرائل کا جائزہ لیا گیا جس پر محسن نقوی نے رپورٹ بھی طلب کر لی۔ اجلاس میں قیدیوں کو فجر اور مغرب کی نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عیدالفطر سے پہلے دیت اور جرمانہ وغیرہ کی ادائیگی کرکے 71 قیدیوں کو رہائی مل جائے گی۔ مخیر حضرات اور حکومت پنجاب نادار قیدیوں کی دیت اور جرمانہ وغیرہ ادا کریں گے۔ اجلاس میں پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کیلئے ویڈیو کال کی سہولت فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ جس کے تحت لاہور کی جیل میں 7 دن کے اندر ویڈیو کال کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کر دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 5 ماڈل جیلوں میں ماڈل ویٹنگ او رمیٹنگ ایریاز قائم کئے جائیں گے جبکہ 10 مزید جیلوں میں قیدیوں کو ٹیوٹا کورسز کرائے جائیں گے۔ اجلاس کو بریفننگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 28 جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔ 15 مزید جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئی جی آفس میں 24/7 مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم فعال کیا جائے گا۔ جیل میں ویڈیو لنک ٹرائل سے قیدیوں کو عدالت لانے لے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 9 جیلو ں میں اوپن ایئر جم قائم کردیئے گئے ہیں اور دیگر تمام جیلوں میں بھی اوپن ایئر جم بنائے جائیں گے۔ جبکہ جیل ہسپتالوں کیلئے 40کروڑ روپے کے طبی آلات خریدے جائیں گے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خزانہ، آئی جی جیل خانہ جات. چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔











