ملتان ، 02 اپریل (اے پی پی ): صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت یا زرعی صنعت پر ہے ،اس کی 31 بلین ڈالر کی برآمدات میں سے 24 بلین ڈالر زراعت یا زراعت پر مبنی صنعتوں کے تیار کردہ سامان سے کمائے جاتے ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد زراعت بڑھاؤ پاکستان بچاؤ مہم کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کسی بھی حکومت نے زراعت کی ترقی کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے ساتھ پڑوسی ممالک سے مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے جو اپنی زراعت اورکھاد، بجلی، ڈیزل وغیرہ پر سبسڈی دیتے ہیں اور ان کی قیمتوں کو بھی سہارا دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری تقریباً صفر ہے، کپاس اور دیگر فصلوں پر تحقیق کرنے والے سائنسدان گزشتہ 9 ماہ کی تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بجلی پر سبسڈی کی واپسی نے کاشتکاری کے کاموں کی لاگت میں اضافہ کیا ہے پاکستان نے کپاس(4بلین ڈالر)، گندم( 2 بلین ڈالر)، خوردنی تیل(4.5 بلین ڈالر) اور دالوں(0.5 بلین ڈالر) کی درآمد پر تقریباً 12 بلین امریکی ڈالر کا زرمبادلہ ضائع کیا۔
خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ پاکستان جدید زرعی کاشتکاری کے طریقوں کو متعارف کروا کر اپنا قیمتی زرمبادلہ بچا سکتا ہے، ہر سال پاکستان کی آبادی نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری بیجوں کی پیداوار پر تحقیق پر محدود سرمایہ کاری اور کھادوں کا غیر متوازن استعمال زرعی پیداوار میں جمود کی بڑی وجوہات ہیں ۔
صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 10 میں سے 8 بچے صحیح قسم اور مقدار کا کھانا نہیں کھاتے ہیں جبکہ دوسری طرف، ملک کی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 18 ملین ایکڑ بنجر زمین کو زیر کاشت لایا جا سکتا ہے، یہ ناقابل استعمال صلاحیت جی ڈی پی میں تقریباً 34 بلین امریکی ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات، بجلی اور ڈیزل جیسے زرعی آلات پر سبسڈی کی کمی کی وجہ سے، فصل کی پیداواری لاگت روز بروز بڑھ رہی ہے، خاص طور پر قلت کی وجہ سے یوریا کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے، پچھلے سال مڈل مینوں نے کسانوں کی جیبوں سے تقریباً 70 ارب روپے نکالے تھے اور اس سال یوریا کی شدید قلت نے مڈل مینوں کو 90 ارب روپے نکالنے کا موقع فراہم کیا ہے، اس وقت پاکستان کے کسان اپنی فصلوں کے لیے یوریا حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں جبکہ سندھ اور پنجاب میں کپاس کی بوائی شروع ہو گئی ہے۔
خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ این ایف ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس سال ملک کو 700,000 ملین ٹن یوریا کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یوریا کی کل کھپت تقریباً 6.8 ملین ٹن سالانہ ہے ، ہم آرمی چیف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ یوریا مینوفیکچرنگ یونٹس کو طویل مدتی بنیادوں پر (کم از کم 10 سال) سبسڈی اور نان اسٹاپ گیس کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور 8.2 ملین کسانوں کو استحصال سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسان اتحاد کے کسانوں کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید آصف منیر سے درخواستہے کہ وہ پاکستان میں زراعت کی بحالی کے لیے کسان برادری کا ساتھ دیں، پاک فوج قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے، نہروں کی صفائی اور ٹڈی دل پر قابو پانے کی امدادی سرگرمیوں میں شامل رہی اور ماضی میں پاکستان میں مختلف تنظیموں کے انتظام کو سیدھا کیا اور شاندار نتائج دیے، یہ پختہ یقین ہے کہ اگر پاک فوج بارڈر سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیکیورٹی بھی سرانجام دے تو ملک تمام غذائی اجناس میں خود کفیل ہو جائے گا اور ایک بے مثال محفوظ پاکستان ہو گا ۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملک کے باقی ادارے بھی پیداوار بڑھانے اور بنجر زمین کو زیر کاشت بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس کے بغیر معیشت میں بہتری مشکل ہے۔











