آئین پاکستان میں وفاقیت، طرز حکمرانی ،سیاسی نظام میں تنوع اور سیاسی اختلافات کو دور کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر حل پیش کیا گیا ہے؛ نفیسہ شاہ

22

اسلام آباد،10مئی(اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں وفاقیت،ایک ریاستی طرز حکمرانی ،سیاسی نظام میں تنوع اور سیاسی اختلافات کو دور کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر حل پیش کیا گیا ہے،  آئین پاکستان میں پیش کئے گئے بلدیاتی نظام کی اشد ضرورت ہے تاکہ مسائل نچلی سطح پر حل کئے جا سکیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات کی یاد میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی آئینی کنونشن کے وفاقیت اور اختیارات کی منتقلی،  چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آ ئین پاکستان میں وفاقیت، ایک ریاستی طرز حکمرانی، سیاسی نظام میں تنوع اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حل پیش کرنے والا ایک دلچسپ ماڈل ہے۔

 نفیسہ شاہ نے کہا کہ  چھوٹے صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی آئین کے مطالبے کو مزید تقویت دینے کے لیے ذیلی قومی تحریکوں کو ہم آہنگی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین نے جس کی  آج گولڈن جوبلی منائی جا رہی ہے، اس نے وفاقی ڈھانچے کی وضاحت میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے 18ویں ترمیم کو پاکستان کی تاریخ میں ایک آئینی سنگ میل قرار دیا کیونکہ اس ترمیم نے 1973 کے آئین میں کیے گئے وعدوں کے مطابق صوبائی مضامین کو کئی گنا بڑھا کر کنکرنٹ لسٹ کو ختم کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی اشد ضرورت ہے جیسا کہ آئین میں تصور کیا گیا ہے۔