سکھر: پروفیسر نثار احمد صدیقی بھی ہم سے رخصت ہوگئے، صوبے اور ملک کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

14

سکھر۔06مئی(اے پی پی): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئی بی اے یونیورسٹی 21 ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلی معیار تعلیم دینے پر کامیابی سے گامزن ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے کنوکیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پرمسرت موقع پر کامیاب طلبہ اوران کے والدین کومبارکباد پیش کرتاہوں، آج کا دن آپ کی زندگی میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،قوم کا عظیم سرمایہ ہونے کے ناطے اب آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، امید کرتا ہوں کہ آپ پاکستان کی خوشحالی میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گذشتہ چند سال کئی ناگزیر وجوہات کی بنا پر بہت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں ، کویڈ 19 ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا لیکن بہتر اقدامات کرکے ہم نے اس پر قابو پایا، اس دوران سندھ کے ایک عظیم شخصیت اور رہنما پروفیسر نثار احمد صدیقی بھی ہم سے رخصت ہوگئے صوبے اور ملک کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، سکھر آئی بی اے یورنیورسٹی ان کی کاوشوں کو ہمیشہ سرائے گی جنہوں نے پاکستان میں کمیونٹی کالجز کے تصور کی بنیاد ڈالی جوکہ ان کا عظیم کارنامہ ہے،پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن اب صدیقی صاحب کے کمیونٹی کالجز ماڈل کو پورے ملک میں پھیلانا چاہتی ہے، صدیقی کی اس میراث کو جاری رکھنا انہیں سب سے بڑا خراج عقیدت پیش کرنے کے مترادف ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیم کی فراوانی کے حوالے سے سندھ حکومت ہر قسم کی تعاون کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے گی، ہم صدیقی صاحب کی میراث کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ میرا سکھر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے ذاتی مراسم ہیں، آئی بی اے کو کراچی کے ساتھ منسلک کرنے کی بنیاد پرمیں قائم کیا گیا تھا جس کی منظوری میرے والد سید عبداللہ شاہ نے 1990 کی دہائی میں دی تھی، مجھے تقریباً 25 سال بعد 2017 میں اس انسٹی ٹیوٹ کو ایک مکمل پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جوکہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے یعنی مجھے اس بیج کی پرورش کرنےکا موقع ملا کی جسے میرے والد نے بویا تھا اور اب یہ ایک پھل دار درخت بن چکا ہے ، آج اس یونیورسٹی کو ملک کی سب سے باوقار یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتاہے ،مجھے امید ہے کہ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور یونیورسٹی کو دنیا کے ٹاپ بزنس اسکولوں کے برابر لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بات قابل ستائش ہے کہ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہے، یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ یونیورسٹی کے 5000 طلباءمیں سے 70 فیصد طالب علم سے زیادہ اسکالرشپس پر اندراج کر ارہے ہیں، حکومت سندھ اپنے سندھ انڈوومنٹ فنڈ اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے ہر سال 200 طلباءکو سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے؛ ہماری حکومت ہمارے نوجوانوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور ہم اس تعداد کو سالانہ 300 تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی قوم کو روبوٹکس، اے آئی ، بگ ڈیٹا، اور بلاک چین جیسی تکنیکی ترقی سے آشنا کریں۔

 ہماری حکومت نے سکھر IBA یونیورسٹی میں 150 ملین روپے سے زیادہ کے بجٹ کے ساتھ روبوٹکس، AI، اور Blockchain (CRAIB) میں ایک جدید مرکز کے قیام کی منظوری دی ہے، اب فعال طور پر کر رہا ہے، آپ حضرات کی شکل میں21ویں صدی کی ان ٹیکنالوجیز میں ایک ہنر مند افرادی قوت ہمارے ملک میں مثبت تبدیلی لا رہی ہے۔سکھر آئی بی اے کے حکومت سندھ کے محکمہ انفارمیشن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی ٹی انڈسٹری ریڈینس بوٹ کیمپ کے آغاز کے تعاون کے حوالے سے سن کر خوشی ہوئی ہے۔ اس اقدام سے 1500 نوجوان گریجویٹس کو فائدہ پہنچے گا جنہیں پاکستانی جاب مارکیٹ اور دیگر مقامات پر کامیابی کے ساتھ ہمکنار کرنے کے لیے ضروری مہارت اور علم فراہم کیاجائےگا۔ اپنے سابقہ دور میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں فیب لیب کے نام سے مشہور ایک اور اہم منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے خوشی ہوئی جوکہ MIT USA کے تعاون اور حکومت سندھ کے فنڈنگ سے قائم کی گئی تھی، فیب لیب مکانات کی تعمیر اور کپڑوں کی عمدہ بناوٹ، فرنیچر ، کھلونے غرض کچھ بھی بنانے میں بہت ہی کارگر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر آئی بی اے 21 ویں صدے کے تقاضوں کو بھرپور اندازمیں پورا کررہی ہے، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی توانائی کے متبادل ذرائع کے حوالے سے بھی پوری طرح کوشاں ے۔ اب 1.5 میگاواٹ سے زیادہ بجلی شمسی توانائی کے ذریعے سسٹم میں داخل کی جا رہی ہے،اس موثر اقدام نے یونیورسٹی کو اپنے ماہانہ بجلی کے بل پر 20 لاکھ روپے بچانے کے قابل بنایا ہے،توقع ہے کہ5 سالوں میں سرمایہ کاری کی ادائیگی ہو جائے گی، جو تقریباً 25 سال تک مفت بجلی فراہم کرے گی اور یہ دیگر یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک مثال قائم کرتا ہے۔ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی نے حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کردہ فنڈنگ سے سولر پینل لگائے ہیں، سکھر IBA یونیورسٹی کی فیکلٹی کو AMDISA-SAQS کی ایکریڈیٹیشن کی حالیہ کامیابی پر مبارکباد دیتاہوں۔یونیورسٹی کے معیارات کو جاب مارکیٹ نے تسلیم کیا ہے۔یہاں کے گریجویٹس کو فوری طور پر بہترین تنخواہوں کے پیکجز کے ساتھ ملازمت پر رکھا جاتا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سکھر آئی بی اے دادو، کندھ کوٹ اور میرپور خاص جیسے شہروں میں اپنے ذیلی کیمپسز کے ذریعے اپنی خدمات کو بڑھا رہا ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل آپ جیسے لوگوں پر منحصر ہے۔آپ دوسروں کے لیے رول ماڈل ہوں گے؛ امید ہے کہ آپ اپنے ملک اور ملک کے لوگوں کی خدمت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں گے۔