پاکستان نیوی نے حکومتی منظوری کے بعد”پی این ایس طارق ”  برطانیہ   سپردگی  کے کام کا آغاز کر دیا

53

اسلام آباد،29 مئی (اے پی پی ):  پاکستان نیوی نے حکومتی منظوری کے بعد جنگی بحری جہاز کی سپردگی  کے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ پاکستان جذبہ خیرسگالی کے تحت برطانیہ کو جنگی بحری جہاز”پی این ایس طارق “بطور تحفہ دے گا۔ جنگی جہاز”پی این ایس طارق “رواں سال  جولائی پا اگست تک برطانیہ کے سپرد کیے جانے کا  قومی امکان ہے۔

برطانیہ نے پاکستان سے ایمیزون  یا طارق کالاس ٹائپ 21 جنگی جہاز کی استداعا کی تھی۔ پاک بحری میں شامل ٹائپ 21 ایمیزون کلاس  فریگیٹس 70ء 80ء کی دہا ئیوں میں برطانوی  شاہی بحری کا حصہ رہے۔ ایمیزون کلاس فریگیٹس نے   میں 1982 برطانیہ،ارجنٹائن فاک لینڈ جنگ میں حصہ لیا۔

 برطانیہ، پاکستان سے جہاز حاص کرکے فاک لینڈ جنگ کی یاد گار کے طور پر رکھنا چاہتا ہے۔جہاز کو گلاسگو سکاٹ لینڈ میں دریائے  کالائیڈ پر بطور میوزیم رکھا جائے گا۔ برطانوی تائپ 21 ایمیزون یا طارق کلاس سیریز کا آخری جہاز پی این ایس طارق، ایچ ایم ایس ایمبسکیڈ کے نام سے 1975میں شاہی برطانوی بحری کا حصہ بنا۔پاکستان نے 90ء کی دہائی کے اوائل میں برطانیہ سے 6 ایمیزون کلاس تائپ 21 فریگیٹس حاصل کیے،پاک بحری میں شامل ہونے والا پہلا تائپ 21 ایمیزون کلاس فریگیٹ ایچ ایم ایس ایمبسکیڈ ہی تھا۔

پاک بحری میں جہاز ایچ ایم ایس ایمبسکیڈ کا نام مجاہد اسلام طارق بن زیاد سے منسوب  پی این ایس طارق رکھا  گیا تھا۔پاک بحری کے دیگر 5 طارق کلاس بحری جہازوں میں بابر، خیبر، بدر، شاہ جہان اور ٹیپو سطان شامل ہیں ۔برطانوی ساختہ تائپ 21 طارق کلاس فریگیٹس نے  30سال تک  پاک بحری میں کلیدی خدمات سر انجام دیں ۔پاک بحری میں برطانوی ساختہ تائپ 21 فریگیٹس میں پی این ایس طارق کے علاوہ بقیہ سب جہاز ڈی کمیشن ہو چکے ہیں۔پی این ایس طارق بھی رواں سال ڈی کمیشننگ کے فورا بعد برطانیہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔