چترال،17 مئی (اے پی پی ): کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش جو مقامی زبان میں جوشی بھی کہلاتا ہے، اپنے تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہو گیا ہے تاہم یہ تہوار کیلاش وادی بریر میں جاری ہے۔
موسم بہار کے اس تہوار میں کیلاش مرد ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ کیلاش خواتین گول دائریے میں کندھے سے کندھا ملاکر مذہبی گیت گاتی ہوئی رقص کرتی ہیں۔کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جو قاضی کہلاتے ہیں وہ اس محفل کے درمیان میں کھڑے ہوکر دعائیں اور مذہبی گیت گاتے ہیں جبکہ ان کے اہل و عیال ان کی ٹوپی کو سو، پانچ سو، ہزار روپے کے نوٹوں سے سجاتے ہیں۔ یہ کیلاشی عوام کی قاضی کیلئے عزت اور اکرام کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔
دوپہر تک کیلاش خواتین اور بچے مختلف دیہات سے گیت گاتی ہوئی ڈھولک کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے ٹولیوں کی شکل میں چرسو یعنی رقص گاہ جمع ہوتے ہیں۔دوپہر کے بعد کیلاش لوگ ہاتھوں میں اخروٹ کی ٹہنی اور پتے ہاتھوں میں پکڑ کر ان کو لہرا لہرا کر مرکزی رقص گاہ یعنی چرسو کی طرف دھیرے دھیرے گامزن ہوتے ہیں ،اس دوران کسی مسلمان یا دیگر مذہب کے لوگوں کو اس جلوس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چرسو پہنچ کر یہاں خوب جی بھر کر رقص کیا جاتا ہے ۔
عصر کے بعدکیلاش کے مذہبی رہنماء یعنی قاضی حضرات گندم کی فصل میں دودھ چڑھکاتے ہیں جو برکت کیلئے ایسا کیا جاتا ہے جبکہ مرد
حضرات چرسو سے دور جاکر اپنے ہاتھوں میں اخروٹ کی ٹہنی، پتے یا پھول پکڑ کر اپنی زبان سے اونچی آواز میں دعا یا مذہبی گیت گاتے ہوئے آہستہ آہستہ رقص گاہ کی طرف آتے ہیں، مگر ان کے سامنے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چرسو میں خواتین بھی ہاتھوں میں ٹہنیاں اور پتے پکڑ کر انہیں لہرا لہرا کر گیت گاتی ہیں اور مردوں کا انتظار کرتی ہیں۔جب مرد حضرات اپنے قاضیوں کے قیادت میں رقص گاہ یعنی چرسو پہنچتےہیں تو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پتے اور ٹہنیاں ان خواتین پر نچاور کرتے ہوئے سب گل مل جاتے ہیں اور اکٹھے رقص پیش کرتے ہیں۔
اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے ہوئے تھے تاہم راستوں کی خرابی اور سیاحوں کیلئے بیٹھنے کی جگہ اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کو چند مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
چترال ٹریول بیورو کے دعوت پر فن لینڈ سے درجن بھر سیاح پہلی بار وادی کیلاش آئے تھے۔ ان سیاحوں سے جب اس تہوار کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سیاحت کو ترقی دینے کیلئے کام کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ سیاحت پہ مزید توجہ دیں تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا بھی سامنا نہ ہو اور یہاں زیادہ سے زیادہ سیاح آنے سے اس علاقے کے لوگوں کی معاشی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر سید حریر شاہ نے سیاحت کی ترقی میں مقامی عوام کی شمولیت کے اہم کردار پر زور دیا تاکہ سیاحت کے منفی اثرات کو کم کیا جائے اور اس کے فوائد کو بڑھایا جائے۔











