سی پیک چین کی طرف سے تحفہ نہیں ، خطے کی ترقی، استحکام کے لئے ایک مشترکہ کوشش ہے؛ژاؤ شیریں

18

سرگودھا،13جون(اے پی پی):قونصل جنرل چین ژاؤ شیریں نے کہا کہ سی پیک ہمارے ملک چین کی طرف سے کوئی تحفہ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی طرف سے خطے کی ترقی، استحکام اور بہتری کے لئے ایک ایسی مشترکہ کوشش ہے جس کا باقی دنیا کو بھی فائدہ ہے جس کو کامیاب بنانا دونوں ممالک پر فرض ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سی پیک کی ایک دہائی مکمل ہونے پر یونیورسٹی آف سرگودھا میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز اینڈ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ اور شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام ایک روزہ خصوصی سیمینار بعنوان ”پاک چین دوستی اور سی پیک کی ایک دہائی“ سے خطاب میں کیا۔ جس میں قونصل جنرل چین ژاؤ شیریں سمیت سابق سفیر چین اور معروف سکالر نغمانہ ہاشمی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز اینڈ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر فضل الرحمن اور شعبہ سیاسیات کی استاد محقق اور سکالر ڈاکٹر سندس خضر نے شرکت کی اور سیمینار سے خطاب کیا۔

 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل چین لاہور ژاؤ شیریں نے کہا کہ سی پیک کسی ایسی فوری اثر کرنے والی میڈیسن کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر معمولی اور اپنی نوعیت کا منفرد تجارتی منصوبہ ہے جس کے اثرات دور رس اور دیرپا ہیں۔

ژاؤ شیریں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کی اگرچہ اقدار، مذہب، ثقافت مختلف ہے لیکن ہم دلی طور پر پوری دنیا میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور اس کی دوستی کی مثالیں ہر علمی اور تجارتی فورم پر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق ہو یا مغرب انسان کو اپنا گھر ہی اچھا لگتا ہے لیکن خلوص، پیار اور محبت کی وجہ سے میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک پُرامن اور با صلاحیت لوگوں کا خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دسمبر میں گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا آغاز ہوجائے گا جو دونوں ممالک کو تجارتی حوالے سے بہت سپورٹ کرے گا۔

 ژاؤ شیریں نے کہا کہ میں سی پیک کے دس سال مکمل ہونے پر پوری پاکستانی قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا میں یہ میرا دوسرا دورہ ہے اور مجھے یہاں کے طالب علموں اور ان کے نظم و ضبط نے بہت متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرگودھا یونیورسٹی پاکستان کی اہم بہت اچھی جامعہ ہے اور یہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس کی قیادت میں اپنا بہترین علمی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے کہا کہ پاکستان اور چین جہاں سی پیک کو کامیاب کرنے کے لئے مختلف منصوبے شروع کررہے ہیں وہاں پر تعلیمی،تحقیقی اور سائنسی شعبوں میں مختلف قسم کے منصوبے شروع کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جہاں تجارتی سطح پر پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط ہورہے وہاں اس منصوبے سے بہت سے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور یہ حقیقی معنوں میں ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔

 انہوں نے اس موقع پر قونصل جنرل کو بتایا کہ پورے پاکستان سے 25 ہزار طالبعلم اعلیٰ تعلیم کے لئے چائنہ میں زیر تعلیم ہیں اور ان میں زیادہ تر اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان میں مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے اکثریت کی تعداد حکومت چائینہ کی طرف سے جاری کردہ سکالرشپس کی ہے۔

 وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے کہا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کو یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اس کے 18 سکالرز نے چین سے پی ایچ ڈی کی ہے جو کسی بھی پاکستان کی یونیورسٹی میں سب سے زیادہ اساتذہ کی تعداد ہے۔

 اس موقع پر معروف سکالر، محقق اور چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ سی پیک کا قائم دائم رہنا اور اس کے دس سال مکمل ہونے میں دونوں ممالک کی عوام اور حکومت مبارک باد کی مستحق ہیں اور یہ منصوبہ کووڈ 19 جیسے سانحہ کے باوجود بھی جاری و ساری ہے اور آج اس منصوبے کی اہمیت کو سمجھنا ہر پاکستانی پر فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سی پیک کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈہ کو بھی سمجھنا چاہیئے اور ایسی امور کی بھی نشاندہی کرنا ہے جو اس کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں چائینہ پاکستان کا ایک اچھا دوست ہے وہاں یہ ایک بہت اچھا بزنس پارٹنر بھی ہے۔

 سی پیک کے دس سال مکمل ہونے کی خوشی میں ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف ریسرچ سکالراور استاد ڈاکٹر سندس خضر نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے گوادر کو بھی بہت اہمیت حاصل ہوگی ہے اس منصوبے میں اگرچے دوممالک شامل ہیں لیکن اگر دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں تو اس منصوبے کی نہ صرف اہمیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی بلکہ اس میں شامل ہونے والے ممالک کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔

سیمینار کے اختتام پر ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز اینڈ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر فضل الرحمن نے سیمینار کے اغراض و مقاصد اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور دوستی کو پائیدار کرنے کے لئے مختلف منصوبے شروع کرچکی ہے جس میں چائینز زبان کی ترویج کے لئے باقاعدہ کورسز کا اجراء کیا گیا ہے اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے بہت سے طالب علم اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے مزید پروگرام بھی منعقد کئے جائیں گے۔

 سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے مہمانان گرامی کو یونیورسٹی آف سرگودھا کی طرف یادگاری سونئیر بھی پیش کئے۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلریونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر الیاس طارق، شعبہ سیاسیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر آسیہ سیف علوی، یونیورسٹی آف سرگودھا کے سینئر اساتذہ، انتظامی افسران اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔