گوجرانوالہ،10جون(اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خاں نے کہا ہے کہ عمران خان نے 2019میں آئی ایم ایف سے بھیانک معاہدہ کیااوراس سے زیادہ بھیانک طریقے سے اس معاہدہ کوتوڑا، حالیہ بجٹ میں سب سے بڑی مد7ہزارارب روپے کے قرضوں کی ادائیگی تھی اگرچیئرمین پی ٹی آئی اپنے دعوئوں کے مطابق قرض نہ لیتے تو یہ ادائیگی سات کی بجائے 3ہزار ارب ہوتی۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے گیپکوہیڈکوارٹر میں پریس بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دورمیں سی پیک کومفلوج کردیاگیا جوملک اورقوم کے ساتھ ظلم ہے، مزید ستم یہ کہ سی پیک کومفلوج کرنے کے بعد تھرکول پر بھی کام بند ہوگیا حالانکہ تھرکول پرکام کرکے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی تھی تاہم اب تھر کول پرکام شروع کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چین،امریکہ،ترکی،سعودی عرب سمیت تمام دوست ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات میں سنگین بگاڑپیدا کیا آج 14ماہ گزرنے کے باوجود ہمارے دوست ممالک حکومت پاکستان پراعتماد کرنے کوتیار نہیں۔
وفاقی وزیرکاکہناتھاکہ آئی ایم ایف سے معاہدہ میں تاخیر کی وجہ عمران خان حکومت کے پہلے دس ماہ تھے جوتباہ کن ثابت ہورہے ہیں، صوبائی حکومتوں نے منصوبہ بنایا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے کہ ہم اس حکومت کونہیں مانتے، اختلافات ہوسکتے ہیں مگر بنیادوں کوکمزور کرنا درست نہیں۔
خرم دستگیرخان کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمہ کے بعد ابھی تک آئی ایم ایف پروگرام چالونہیں ہوا ہے، شہبازشریف حکومت نے سی پیک پردوبارہ کام شروع کروایا۔
الیکشن کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ انتخابات کا فیصلہ پی ڈی ایم اوراتحادی جماعتیں مل کرکریں گی اوران کا جوبھی فیصلہ ہوگا وہ آئین کے مطابق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں الیکشن کیلئے سرمایہ رکھاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں، اسمبلی کی مدت 12اگست تک ہے اگر اسمبلی خودتحلیل ہوتی ہے تو 60دن اور اگر وزیر اعظم ایک دن پہلے خود تحلیل کریں تو 90روز میں الیکشن ہو جائیں گے، ابھی تک 10نومبر تک ہی الیکشن کی پلاننگ ہے۔
انجینئر خرم دستگیر خاں کاکہناتھا کہ تمام تر وسائل پاکستان کے عوام کیلئے ہیں، معاشی چیلنجز سے بخوبی نمٹ لیں گے، آنے والے دنوں میں مزید ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے کاشتکاروں کو ٹیوب ویل کی سہولت فراہم کرنے کیلئے حکومت اگلے سال 68 ارب روپے فراہم کرے گی اسی طرح آزادجموں وکشمیر کے صارفین کو بجلی کی مد میں اس سال 70ارب جبکہ اگلے سال80ارب روپے کا ریلیف دیاجائیگا اور سابقہ فاٹاکی عوام کے لئے اگلے سال 39ارب روپے کاریلیف فراہم کیاجائیگا۔
انجینئر خرم دستگیر خاں نے کہا کہ اہلیان کراچی کو بجلی کی مد میں بڑا ریلیف فراہم کیاجارہا ہے انہوں نے کہاکہ پچھلے سال سے اب تک بجلی کے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا ایران -گوادرٹرانسمشن لائن مکمل کرکے چالوکی گئی ہے، تھرسے مٹیاری 220کلومیٹرکی ٹرانسمشن لائن مکمل کرکے چالوکردی گئی۔ انہوں نے کہاکہ وہ صنعت کار جوسولر پینل،بیٹریاں یا انورٹر بناناچاہتے ہیں ان کیلئے خام مال کی امپورٹ ٹیکس فری کردی گئی ہے۔
انجینئر خرم دستگیر خاں نے کہاکہ تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے 30ارب ڈالر کانقصان ہوا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے پونے چارسال میں ملکی قرضوں میں 90فیصداضافہ کیا ۔











