پشاور، 3جون(اے پی پی): نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی معاون خصوصی برائے زکوٰة و عشر سماجی بہبود خصوصی تعلیم اور ترقی خواتین سلمیٰ بیگم کی زیر صدارت خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کا 30واں اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں کمیشن کے مختلف امور زیر غور لائے گئے، کمیشن اراکین نے کمیشن میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسرز، سوشل کیس ورکرز، سیکالوجسٹس، آفس اسسٹنٹس اور دیگر خالی آسامیوں کو پر کرنے پر متفق ہوئے اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ خالی آسامیوں کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے این او سی لے لیں اس کے علاوہ سی پی ڈبلیو سی کے سالانہ بجٹ 23-2022 اور24-2023 پر سیر حاصل بحث ہوئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت صوبے کے 12مختلف اضلاع میں بچوں کی تحفظ کیلیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم ہیں جنکی سرگرمیاں ان اضلاع میں متواتر جاری ہیں جبکہ اس موقع پر صوبے کے باقی اضلاع اور بالخصوص نئے ضم قبائلی اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں کمیشن کے ملازمین کیلئے مختلف ہیلتھ سکیمز کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی جس پر اراکین متفق نہ ہوسکے۔ صحت کارڈ کی سہولت عام وخاص کیلیے موجود ہے جس سے ہر کوئی استفادہ حاصل کرسکتا ہے۔
کمیشن کے سروس ریگولیشن میں ترامیم کے حوالے سے بھی اراکین میں تفصیل سے گفتگو ہوئی جبکہ ہائی کوالیفائیڈ ملازمین کیلیے ایم فل الاوٴنس کو زیر غور لایا گیا۔
اس موقع پر نگران معاون خصوصی سلمیٰ بیگم نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں اور بچوں کی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کی پامالی اور تشدد کی روک تھام بہترین معاشرے کی تشکیل کیلیے نہایت ضروری ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ سوشل ویلفیئر ضیاالحق، کے پی سی پی ڈبلیو سی کے چیف پروٹیکشن آفیسر اعجاز محمد خان اور دیگر اراکین سمیت محکمہ قانون، فنانس، ابتدائی وثانوی تعلیم ، لوکل گورنمنٹ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔











