سویڈن کی حکومت اور عدالت کی طرف سے قرآن کریم کو جلانے کی اجازت دینا قابل مذمت ہے ،مولاناطاہر اشرفی

14

گوجرانوالہ۔ 21 جولائی (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل مولاناطاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سویڈن کی حکومت اور عدالت کی طرف سے قرآن کریم کو جلانے کی اجازت دینا قابل مذمت ہے ‘ قانون سازی ہو نی چائیے کہ کسی بھی آسمانی کتاب یا نبی کی توہین نہیں کی جائے گی ،سویڈن کے معاملے پر پاکستان علما کونسل نے 26جولائی کوتمام مکاتب فکر اور مذاہب کا اجلاس بلایا ہے،محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا ہوگا ،کسی مکتبہ فکر کی دل آزاری پرقانون حرکت میں آئے گا،نومئی کے واقعہ میں جو لوگ براہ راست نظر آرہے ہیں، ہمارا نظام انصاف ان کو سزا نہیں دے سکا ،نو مئی کو ملک ،ریاست اور اسکے اداروں پرجو حملہ ہوا پہلے ستر سالوں میں نہیں ہوا،سویڈن کے معاملے پر پاکستان علما کونسل نے 26جولائی کوتمام مکاتب فکر اور مذاہب کا اجلاس بلایا ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوجرانوالہ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری میں علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کاکہناتھا کہ ہمارے لیے تمام انبیااور ان پر آنے والی کتابیں مقدم ہیں،یواین او میں اس کی قانون سازی ہونی چاہیے کہ کسی نبی یا کسی مذہبی کتاب کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں افہام وتفہیم کی فضا کو فروغ دینا ہے،تمام علما اور ذاکرین خیال رکھیں گے کسی دوسرے مکتبہ فکر کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے ،اگر ایسا ہو گا تو پھر قانون حرکت میں آئے گاچیئرمین پاکستان علماء کونسل کاکہناتھاکہ مساجد کے بجلی کے بلوں سے ٹی وی اور ریڈیو کی فیس کے پیسے نہ لئے جا ئیں ،انہوں نے کہاکہ مدینہ کی طرز کی ریاست کی بات کرنا کوئی گناہ نہیں لیکن کوئی عمل بھی تو سامنے آنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے یہی کہوں گا کہ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پے بجلیاں ،جتنے خا ص لوگ عمران خان کے اردگرد تھے سب سے پہلے وہی بھاگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ سے جس جس نے بھی تحائف لیے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ واپس کریں اور ان کی نیلامی کروائی جائے ،عمران خان کے دور میں بہت سے تحائف جو آئے وہ کہیں پر درج نہیں ہیں  ۔انہوں نے کہاکہ سائفر میں ایک آدھ جملہ غیر منا سب ہے جو کسی ملک کو کسی دوسرے ملک کو نہیں کہنا چائیے۔