کوئٹہ، 27 جولائی ( اے پی پی ): حب ڈیم کے مضافاتی علاقوں کے دیہاتوں کے لوگوں کوحفاظتی اقدامات کے تحت گوٹھوں سے انخلاءکی ہدایت کی گئی ہے ،مشکل کی اس گھڑی میں عوا م کی خدمت ہماری ذمہ داری جبکہ خدمات سرانجام دینے کا وقت ہے۔ حب ڈیزاسٹر پلان کے تحت حب ڈیم کے اسپیل وے سے لیکر بند مراد ساکران حب سٹی تک سرویلنس کا موثر سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے ۔ یہ بات ڈپٹی کمشنر حب زاہد خان خلجی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔
ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ حب ڈیم میں ذخیرہ آب کی سطح 339 فٹ سے اوورفلو ہونے پر اسپیل وے سے پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے ۔حب ڈیم میں 687000 ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ ہے جو کہ کراچی اور حب ساکران بلوچستان کی اگلے 3 سال تک پانی ضرویات کے لیے کافی ہے، اسپل وے سے اضافی پانی کا اخراج شروع ہوچکا ہے ،کیچمنٹ ایریا میں اگر آج بارشیں ہوئیں تو حب ندی میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈی سی حب زاہد خان نے کہا کہ افسران ٹیم ورک جاری رکھیں ڈیزاسٹر کوئیک رسپانس کی ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں، حب ندی کے اندر واقع تمام کرش پلانٹ عملے کو بھی انخلاءکی وارننگ دے دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حب ندی سے ملحقہ ساکران بند مراد گوٹھ اور بلوچ سے بھی شہریوں کے انخلاءکا عمل شروع کروایا گیا ہے ،کوئیک رسپانس ٹیمیں واکی ٹاکی وائرلیس سیٹ کے ذریعے خدمات سرانجام دینگے۔
انہوں نے کہا کہ ایف سی 54 ونگ کی کوئیک رسپانس ٹیمیں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی معاونت کیلئے الرٹ ہیں ، شاہ نورانی اور مضافات میں جاری بارشوں کا سیلابی ریلا آج حب ڈیم میں داخل ہوگا ،حب ڈیم کے اسپیل وے سے اخراج ہونے والے سیلابی ریلوں سے حب ندی میں کسی بھی وقت شدید طغیانی ہوسکتی ہے۔











