بھکر،15 ستمبر (اے پی پی ): ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نور محمد اعوان نے کہا ہے کہ امسال ضلع بھکر میں کپاس کے مقرر کردہ ٹارگٹ سے 116 فیصد زائد رقبے پر کامیاب کاشت کی گئی ہے، ہم کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کماد کی قیمت شوگر ملوں سے بروقت ادا کروائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت توسیع کی طرف سے دفتر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع بھکر کے سبزہ زارمیں منعقدہ سیمینار” برائے کماد کی کامیاب کاشت “سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی دن رات کی کاوشوں اور کاشتکاروں کی محنت سے کپاس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی چیک پوسٹوں پر دن رات کی کڑی نگرانی کی بدولت جعلی کھادوں اور زہروں کی ترسیل ناممکن بنائی گئی ہےجس کے بھرپور ثمرات کاشتکاروں کو فصلوں کی بھرپور پیداوار کی صورت حاصل ہوئے ہیں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع سرگودھا ڈویژن شاہد حسین نے کہا کہ گنا ایک نقد آور فصل ہے اور اس سے کاشتکاروں کو ایک ہی وقت میں تمام قیمت مل جاتی ہے، کماد کی ستمبر کاشت اور کینولا کے ساتھ انٹر کراپنگ سے بھرپور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع بھکر میں کپاس کی فصل بہترین ہے اور اس سے اوسطاً ہر 25 من سے زائد پیداوار متوقع ہے۔
اس موقع پر جی ایم میرن شوگر ملز نے بتایا کہ کماد کی بہترین پیداوار جدید اقسام وقت پر کاشت اور شرح بیج پورا استعمال کرنے سے ممکن ہے ۔
تقریب سےڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈاکٹر شوکت علی عابد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگائیں اس سے فضا میں آلودگی پیدا ہوتی ہے اور زمین کے نامیاتی مادے ختم ہو جاتے ہیں۔
علی عابد نے کہا کہ سٹبل برننگ کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے کہ جو کاشتکار کماد یا چاول کی باقیات کو آگ لگائے گا اس کو فی ایکڑ 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جس کی آخری حد پانچ لاکھ روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کپاس کی فصل اپنے پیداواری مرحلے میں نازک موڑ پر انتہائی نگہداشت کی حامل ہے اس لیے پانی اور خوراک کی کمی ہرگز نہ آنے دی جائے، مائیکرونیوٹرینٹس اور یوریا کھاد کا سپرے کرنے سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہےپیسٹ سکاؤٹنگ ہفتہ میں دو مرتبہ کریں اور کیڑے کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت کی ہدایات کے مطابق سپرے کریں۔
بعدازاں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نور محمد اعوان نے دفتر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع کے دفتر میں ٹریننگ ہال کی تزئین و آرائش کا افتتاح کیااور شاندار ٹریننگ ہال کی تعریف کی اور کاشتکاروں کی تربیت کے لیے انمول تحفہ قرار دیا۔











