سکھر: سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) اور اروڑ یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط

28

 

سکھر،15ستمبر(اے پی پی): سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) اور اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج سکھر کے مابین مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے،سرسو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ڈتل کلہوڑو اور اے یو اے ڈی ایچ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ نے سرسو کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں شراکت داری کو باقاعدہ شکل دی۔ یہ مفاہمت نامے کی توجہ ثقافتی ورثے کے تحفظ، مقامی آرٹ اور دستکاری کو بحال کرنے، کاروباری تعاون فراہم کرنے، صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کی پیشکش، اور علاقے  میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر مرکوز ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد ان کمیونٹیز کی ثقافتی اور اقتصادی ترقی پر مثبت اثر ڈالنا ہے جن کی غربت کے خاتمے کیلئے وہ کام کررہے ہیں۔

سرسو کے چیف محمد ڈتل کلہوڑو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی کاریگر عورتوں کے ہاتھوں سے بنی اشیاءکے فروغ کیلئے سرسو دو دہائیوں سے کام کر رہا ہے، ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی اشیاءپاکستان کے شہری علاقوں کی بڑے مالز میں نمائش کے ذریعے اجاگر اور فروخت کروائیں جس میں حاصل ہونے والی تمام قیمت سیدھی ہنرمند عورتوں کو جاتی ہے، آج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ان کے ہاتھوں کی بنی ہوئی اشیاءکی فروخت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ڈیمانڈ بڑھتی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اروڑ یونیورسٹی اور سرسو کی ماہر ٹیم مل کر اس کام کو جدید دور کے تقاضے کے مطابق مزید ماڈرن انداز میں آگے لے کر جائیں گے۔

اروڑ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اروڑ یونیورسٹی سے منسلک طلبہ و طالبات کو اس فیلڈ میں انٹرن شپ کروائی جائیں گی اور باقاعدہ منظم انداز سے سرسو کے ساتھ مل کر آرٹس اور ڈیزائن کو مزید وسعت دیں گے۔

اس موقع پر سرسو کے چیف فنانشل آفیسر آصف کھڑو، پروفیسر ڈاکٹر ضمیر ابڑو، ڈاکٹر سہیل سرہندی، ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ، نادیہ سموں اور دیگر موجود تھے،اس سے پہلے اروڑ یونیورسٹی کے وفد نے سرسو کامپلیکس میں پروڈکشن یونٹ اور ایسٹ لیٹ کا دورہ کیا اور سرسو کے کام کو سراہا۔