پشاور، 6اکتوبر(اے پی پی): گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کے احساس محرومیوں کا ادراک ہے، اسلئے ضم اضلاع کی ترقی اور قبائلی عوام کا معیار زندگی بلند کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے ضم اضلاع کرم، جنوبی وزیرستان، اورکزئی، شمالی وزیرستان کے عمائدین علاقہ پر مشتمل مشترکہ عوامی وفد سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں ضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور گورنر کو نئی حلقہ بندیوں سے ضم اضلاع کی قومی اسمبلی کی 6 اور سینٹ کی 8 نشستیں ختم کرنے بارے آگاہ کیا گیا۔
وفد کا کہناتھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے ضم اضلاع اورکزئی اور جنوبی وزیرستان کا قومی اسمبلی کا حلقہ ختم کر دیا گیا ہے جس سے قبائلی عوام میں سینیٹ و قومی اسمبلی میں ضم اضلاع کی نشستیں کم کرنے کیوجہ سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
وفد نے گورنر کو بتایا کہ ضم اضلاع کیلئے سالانہ 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز بھی جاری نہیں کئے گئے، اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات کے بعد ضم اضلاع کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز، دفاتر و دیگر سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
وفد نے گورنر کو آگاہ کیا کہ انضمام کے بعد قبائلی عوام کو فائدہ کے بجائے نقصانات و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وفد نے گورنر سے قبائلی اضلاع کی حلقہ بندیاں کم کرنے، بلدیاتی فنڈز کے عدم اجراء سمیت دیگر عدم سہولیات پر وزیراعظم و وفاقی حکومت سے معاملہ اٹھانے کی اپیل کی۔
گورنر حاجی غلام علی نے وفد کو یقین دلایا کہ ضم اضلاع کے عوام ہمیشہ ریاست کے وفادار اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اسلئے ضم اضلاع کی نشستیں کم ہونے سے متعلق قبائلی عوام کی فریاد متعلقہ حکام تک پہنچائی جائے گی۔











