لاہور 20 اکتوبر ( اے پی پی ): گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے گورنمنٹ گریجویٹ اپوا کالج برائے خواتین میں مضبوط قومی و فارن پالیسی میں مختلف حکومتوں کے کردار پر منعقدہ سیمنار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر ڈال، ڈی پی آئی کالجز سید عنصر اظہر، ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن محمد زاہد میاں اور پرنسپل اپوا کالج پروفیسر ڈاکٹر نائمہ خورشید اور ماہر تعلیم مزمل محمود بٹ اور دیگر نے بھرپور شرکت کی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ فلسطین کے حالات پرہر دل بہت رنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں معصوم بچوں، خواتین اور شہریوں پر بم گرائے جا رہے ہیں ، پوری دنیا کے ترقی یافتہ کہلائے جانے والے ممالک کا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار ممالک جنگ بندی کی قرار داد ویٹو کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری انسانیت جسم کی مانند اگر ایک حصہ کو تکلیف ہو تو باقی انسانوں کو بھی اسے محسوس کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں ،چرند پرند اور ماحول کا بھی خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دائمی کامیابی سچائی کے ساتھ ہے، ایک دوسرے کی رائے کو احترام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیاپر بغیر تحقیق کے خبریں اور باتیں پھلائی جا رہی ہیں۔ ہمارے مذہب میں سنی سنائی بات پر یقین کرنا اور اسے بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا منع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2018 میں 24ویں بڑی معیشت بن گیا تھا ،آج ہم دنیا کی 47ویں معیشت ہیں جو کہ قابل افسوس بات ہے۔
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے مزیدکہاکہ تعلیم ملک کو آگے لے جانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہم نے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ34ارب سے بڑھا کر 120ارب تک کیا جس کے مثبت نتائج نکلے ۔ بدقسمتی سے 2018کے بعد ہائر ایجوکیشن کی فنڈنگ 60ارب کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ طلبا میں میرٹ پر لیپ ٹاپس کی تقسیم سے پاکستان ای لانسنگ ممالک میں شامل ہوا، سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا اور گیمنگ ایپس میں پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی جمہوریت اور آئین کی بالادستی سے ہے۔











