پشاور،8 نومبر(اے پی پی): فقیر آباد ڈویژن پولیس کی نئی حکمت عملی کے تحت سٹریٹ کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران خطرناک راہزن، ڈکیت اور سنیچرز کے 3 گینگز بے نقاب کردئیے گئے ہیں۔
ایس پی فقیر آباد ڈویژن اسامہ آمین چیمہ نے اس کارروائی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے ایس پی فقیر آباد سید طلال احمد شاہ کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ گلبہار عمر آفریدی ، ایس ایچ او تھانہ فقیر آباد کامران مروت اور ایس ایچ او تھانہ پھندو عاقب خان نے سرگرم خطرناک سنیچر و راہزن 3 گینگز کو گرفتار کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فقیر آباد ڈویژن پولیس نے تھانہ پھندو اور تھانہ فقیرآباد، تھانہ گلبہار اور تھانہ پہاڑی پورہ کی حدود میں ڈکیتی و راہزنی کرنے والے سرگرم موبائل سنیچر و خطرناک راہزن گروہ کا سراغ لگا کر مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، یہ گرفتار ملزمان پشاور گڑھی قمر دین، بڈھ بیر کے رہائشی ہیں جن میں ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، جو موقع پاتے ہی پارک شدہ موٹرسائیکل کیساتھ ساتھ اسلحہ کی نوک پر بھی شہریوں سے موٹرسائیکلیں اور قیمتی موبائل چھیننے میں ملوث ہیں۔
ایس پی اسامہ آمین چیمہ نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کا تعلق جہاں سے بھی ہو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے، تاہم خطرناک گینگز کے گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، جن کے قبضہ سے مجموعی طور پر چوری شدہ اور چھینے گئے 8 عدد موٹر سائیکل، 53 عدد قیمتی موبائل فونز اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ گرفتار ملزمان چھینے گئے اور چوری شدہ موٹر سائیکل اور موبائل فونز اونے پونے داموں فروخت کرنے سمیت قیمتی موبائل فونز ہمسایہ ملک افغانستان سمگل کرنے میں بھی ملوث ہیں۔
ایس پی اسامہ امین چیمہ نے کہا کہ گرفتار ملزمان میں موٹر سائیکل کے انجن اور چیسز نمبرات تبدیل کرنے والے ماہر بھی شامل ہیں، اس گینگز کے گرفتار ملزمان میں مسروقہ موٹر سائیکل اور موبائل فونز کا کاروبار کرنے والے ریسیور اور چوری شدہ موبائل کے آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے والے ایکسپرٹ بھی شامل ہیں جو چھینے گئے اور مسروقہ موٹر سائیکل اور موبائل فونز اونے پونے داموں خرید کرآگے سپلائی کرتے تھے۔
ایس پی فقیر آباد ڈویژن اسامہ آمین چیمہ نے کہا کہ فقیرآباد ڈویژن میں سٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم کا قلع قمع کرنے کیلئے خصوصی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، جن سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جارہی ہے جبکہ برآمد شدہ موٹرسائیکل اور موبائل فونز کے اصل مالکان کے حوالے کیا جائے گا۔











