بھارتی سکھوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کا سخت ردعمل، بھارت کے اقدام کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار

14

لاہور، 20 ستمبر(اے پی پی): پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی  نے بھارتی حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ اس سلسلے میں پردھان کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارتی فیصلے کے خلاف شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا اور متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی حکومت اپنے ہی شہریوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روک کر مذہبی آزادی پامال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو سکھ برادری کی مذہبی آزادی سلب کرنے پر جوابدہ بنائے، کیونکہ اس اقدام سے دنیا بھر کے سکھوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے دروازے ہمیشہ سکھ یاتریوں کے لیے کھلے ہیں اور یہاں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) نے کہا کہ گوردواروں کی دیکھ بھال اور سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹر ساجد چوہان نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے باوجود کرتارپور اور دیگر مذہبی مقامات فوری طور پر بحال کیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے سہولیات بڑھانے پر بھرپور کام کیا جا رہا ہے اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔