وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت اجلاس، کسان کارڈ کے دوسرے مرحلے کی ریکوری اور سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ

15

لاہور 27 ستمبر (اے پی پی): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت ایگریکلچر ہاؤس لاہور میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کسان کارڈ کے دوسرے مرحلے کی ریکوری اور سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کے لیے تاریخ ساز پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت محکمہ زراعت کی فیلڈ فارمیشنز نے متاثرین کی بحالی کے لیے قابلِ ستائش کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کسان کارڈ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مائیکرو فنانس پروگرام ہے، جس کے تحت اب تک 160 ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضے کاشتکاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 5 لاکھ سے زائد کاشتکار مستفید ہو چکے ہیں جبکہ 96 ارب 54 کروڑ روپے کے بلا سود قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ کاشتکار اب تک 57 ارب 72 کروڑ روپے مختلف فصلوں پر خرچ کر چکے ہیں۔ وزیر زراعت نے اعلان کیا کہ کسان کارڈ کے قرضوں کی ادائیگی کی مہم 15 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ قرض کی فوری واپسی کرنے والے کاشتکاروں کو شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات دیے جائیں گے اور قرض کی مکمل ادائیگی پر اگلی فصل کی کاشت کے لیے فوری رقم فراہم کر دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرض کی واپسی کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں تاکہ کسانوں کو آسان سہولت فراہم کی جا سکے۔ قرض دہندگان کو ادائیگی کے حوالے سے ایس ایم ایس اور روبوٹ کالز بھی کی جائیں گی۔ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ کسان کارڈ کی ریکوری کے لیے محکمہ زراعت اور بینک آف پنجاب کی فیلڈ ٹیمیں متحرک کردار ادا کریں گی اور کاشتکاروں سے مسلسل رابطہ رکھیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریکوری کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا اور اس عمل میں شاندار کارکردگی دکھانے والی فیلڈ فارمیشنز کو انعامات دیے جائیں گے۔ صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود نے بھی کہا کہ ریکوری کے عمل میں سہولت کار اقدامات کیے جائیں گے اور کسان کارڈ کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔