بلوچستان میں مریضوں کی نگہداشت کے نظام میں ایک تاریخی پیش رفت، ”کینسر اور مہلک بیماریوں کے علاج کے منصوبے” میں توسیع

13

کوئٹہ، 11 نومبر (اے پی پی): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ”کینسر اور مہلک بیماریوں کے علاج کے منصوبے” میں توسیع کر دی گئی ہے یہ اپنی نوعیت کی پہلی شراکت داری ہے جو حکومتِ بلوچستان اور معروف عالمی کمپنی روشی فارما کے درمیان قائم کی گئی ہے جس کے تحت جان لیوا اور مہلک امراض بشمول ملٹی پل اسکلروسِس، ہیموفیلیا، اسپائنل مسکیولر ایٹروفی، ڈایابیٹک میکیولر ایڈیما اور مختلف اقسام کے کینسرز خصوصاً بریسٹ، جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر کا علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے یہ اقدام بلوچستان میں مریضوں کی نگہداشت کے نظام میں ایک تاریخی پیش رفت ہے اور یہ صوبہ پاکستان کا پہلا اور واحد صوبہ بن گیا ہے جو مہلک بیماریوں اور بڑے کینسرز کے علاج کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے۔  اس حوالے سے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت   ”چیف منسٹر انیشیٹیوز فار ٹریٹمنٹ آف کینسر اینڈ ڈیدلی ڈیزیز ایکسپنشن پروجیکٹ” سے متعلق ایک اہم اجلاس منگل کو  چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام محکمہ صحت کے افسران اور روش فارما کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان اور روشی فارما کے مابین مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ایم او یو دستاویزات پر سیکرٹری صحت بلوچستان محمد داؤد خلجی اور روش پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر حفظہ شمسی نے دستخط کئے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا ۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں کینسر اور مہلک بیماریوں کے مفت علاج کا منصوبہ عوامی فلاح کا غیر معمولی سنگ میل ہے،  ہماری حکومت کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان کے کسی شہری کو مالی مسائل کے باعث علاج سے محروم نہ ہونا پڑے ، وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عالمی اداروں کے اشتراک سے صحت کے معیار کو بین الاقوامی سطح تک بلند کرنے کیلئے پرعزم ہے تاکہ مریضوں کو جدید علاج اور نگہداشت کی بہترین سہولیات میسر آئیں یہ منصوبہ نہ صرف صوبے کے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے بلکہ بلوچستان کے صحت کے نظام میں اصلاحات اور انسانیت کی خدمت کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔