لاہور 17 دسمبر:( اے پی پی ) پنجاب میں پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے پانچ سالہ حکمتِ عملی کی تیاری کیلئے “پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم” کے تحت اسٹریٹجک پلاننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ لاہور میں دو روزہ ورکشاپ کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کی۔
ورکشاپ میں نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا جواد احمد ڈوگر، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، آئی جی پریزن میاں فاروق نذیر، سید طاہر رضا بخاری، خیبر پختونخوا سے بیرسٹر محمد علی سیف، منصور اعظم قاضی، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، پروفیسر نمرہ اسحاق، پروفیسر ڈاکٹر زہرہ خانم، سکھ کمیونٹی سے پرشان سنگھ اور پاکستان بھر سے پالیسی سازوں، سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔
ورکشاپ سے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے کیلئے فتنہ الخوارج کے خلاف آگاہی کو نصاب میں شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے سب کو متحد اور یکسو ہو کر عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ محنت کی ہوتی تو خاطر خواہ فرق نظر آتا جبکہ ہم نے مختلف مقامات پر لنچنگ تک کے واقعات دیکھے جو دہشتگردی کی بدترین شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی، سیاسی اور عوامی سطح پر موجود خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ جب سٹیٹ گنجائش چھوڑتی ہے تو اس کی جگہ کوئی تو لے گا۔ قوم کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، سٹیٹ اپنا کام نہیں کریگی تو کوئی وہ جگہ لے گا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہمارے معصوم بچے اور جوان شہید ہو رہے ہیں ایسے میں دہشت گردوں کی سہولت کاری نہیں ہوسکتی۔ اگر حکومت چاہتی ہے کے بچوں کی ذہن سازی ہو تو فتنہ الخوارج کے خلاف چیپٹر نصاب میں شامل کریں۔ پرتشدد انتہاپسندی صرف ایک فرد یا معاشرے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ریاست اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جون کو پنجاب سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ایکٹ 2025 نافذ ہوا۔ پنجاب میں انتہاپسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تحقیق پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جامع ایکشن پلان اور اس پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔ مدارس، نوجوانوں اور معاشرتی طبقات کی شمولیت کے بغیر انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اسی طرح علما کا کردار انتہاپسندی کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے میں انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور انسانیت کا درس دیتا ہے، تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح میڈیا کو سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
ورکشاپ کے دوران ماہرین نے تحقیق پر مبنی، پالیسی پر مرکوز اور عملی اقدامات پر زور دیا۔ سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان نے ورکشاپ میں استقبالیہ خطبہ پیش کیا اور تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے CoE-CVE وژن اور ادارہ جاتی فریم ورک بارے بریفنگ دی۔ ورکشاپ کے دوران پُرتشدد انتہاپسندی کے خلاف ردِعمل کے بجائے انسدادی اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا جاوید احمد ڈوگر نے قومی پالیسی برائے انسدادِ انتہاپسندی پر بریفنگ دی۔
ورکشاپ کے دوران یو این او ڈی سی، پیمان ٹرسٹ اور دیگر ماہرین کے تکنیکی و موضوعاتی سیشنز ہوئے جن میں نوجوانوں کی شمولیت، میڈیا، ڈیجیٹل ریزیلینس، ری ہیبیلیٹیشن اور ڈی ریڈیکلائزیشن پر قابل عمل سفارشات پیش کی گئیں۔ ماہرین نے نوجوانوں کو امن کے سفیر اور مثبت تبدیلی کا محرک قرار دیا۔ ورکشاپ کے دوران گورننس، تحقیق، استعداد سازی، یوتھ انگیجمنٹ اور مانیٹرنگ پر مبنی روڈ میپس تیار کیے گئے۔ ورکشاپ کے دوران پنجاب میں پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے قابلِ عمل اور قابلِ پیمائش حکمتِ عملی تیار کی جارہی ہے۔











